پنجاب اسمبلی اجلاس :

تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی ،اذان اور خطبہ کیلئے لائوڈ سپیکر سے متعلق 2 قانون متفقہ طور پر منظور اپوزیشن ارکان نے تحریک انصاف کی خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر صوبائی وزراء قانون رانا ثناء اللہ سے ایوان میں معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا

جمعہ مئی 15:56

پنجاب اسمبلی اجلاس :
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی نے سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی لازمی تعلیم اور اذان و خطبہ جمعہ کیلئے لائوڈ سپیکر کے استعمال سے متعلق دو قانون متفقہ طور پر منظور کر لیے ہیں۔ جبکہ ایک مسودہ قانون پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول بل 2018 ء ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں جمعہ کے روز قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل اپوزیشن رکن ڈاکٹر وسیم اختر کی طرف سے آئوٹ آف ٹرن پیش کیا گیا ۔

جو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا جس کے دوران وزیر قانون نے واضح کیا کہ قرآن پاک کی لازمی تعلیم کے قانون کا اطلاق غیر مسلم طلبہ پر نہیں ہو گا۔ اسی طرح مساجد اور عبادت گاہوں میں لاوڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت کے قانون کی منظوری کے بعد اب اذان دورد شریف ، عربی خطبہ جمعہ اور افراد کی اموات و گمشدگی سے متعلق اعلانات کیلئے لائوڈ سپیکر کے استعمال کو قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس قانون کے تحت مساجد و عبادت گاہوں کی چہار اطراف میں چار لائوڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت ہو گی البتہ مسالک سے متعلقہ گفتگو یا مذہبی و سیاسی انتشار کا باعث بننے والی گفتگو کے استعمال کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے قبل وقفہ سوالات کے دوران محکمہ زراعت اور ہائیر ایجوکیشن سے متعلق جواب دینے کیلئے متعلقہ محکموں کے سیکرٹری کے موجود نہ ہونے کے باعث سوال ملتوی کر دئیے اور سپیکر نے سوموار کے روز ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔

سکول ایجوکیشن کے متعلقہ پارلیمانی سیکرٹریز روفن جولیس نے جوابات دئیے۔ متفقہ سوالات کے فوری بعد نقطہ اعتراض پر اپوزیشن ارکان نے تحریک انصاف کی خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر صوبائی وزراء قانون رانا ثناء اللہ سے ایوان میں معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا جس پر حکومتی ارکان نے بھی شید احتجاج کیا اور اپوزیشن نے بھی شور شرابہ شروع کر دیا۔

اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ متعدد بار رانا ثناء اللہ کو سمجھا چکے ہیں کہ حساس معاملات پر سوچ سمجھ کر بات کریں جیسے ختم نبوت پر انہوں نے بات کی تھی۔ اسمبلی کا ماحول بہتر رکھنے کیلئے اگر صوبائی وزیر معذرت کر لیں تو اس سے ان کی شان میں کمی نہیں ہو گی، صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میں نے یہ گفتگو ایوان کے باہر کی تھی، اس لئے میڈیا اور بعض سیاسی رہنمائوں کی توجہ دلانے پر الفاظ واپس بھی لے لئے تھے مگر اپوزیشن کے کہنے پر ’’سوری‘‘ تو کیا میں ایس بھی کہنے کو تیار نہیں ہوں، جس پر اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئے، سپیکر نے دو وزراء کامران ندیم اور چودھری شیر علی خان کو اپوزیشن کو منانے کیلئے باہر بھجوایا، اپوزیشن کے آنے پر وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول پنجاب 2018ء کا مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا اور دو بلوں کی ایوان میں منظوری دی گئی جن میں سے ایک اپوزیشن رکن ڈاکٹر وسیم اختر نے تعلیمی اداروں میں قرآن کی لازمی تعلیم دینے سے متعلق تھا، اپوزیشن لیڈر نے نقطہ اعتراض پر رانا ثناء اللہ کی معافی سے متعلق پھر بات کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے اجلاس سوموار کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا۔