سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں توانائی کے پانچ منصوبوں کی منظوری دید ی گئی

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بجلی اور توانائی کی ضروریات کا درست اندازہ لگانے میں مدد مل رہی ہے ،ْ سرتاج عزیز

جمعہ مئی 16:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں توانائی کے پانچ منصوبوں کی منظوری دید ی گئی جبکہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیزنے کہاہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بجلی اور توانائی کی ضروریات کا درست اندازہ لگانے میں مدد مل رہی ہے، بجلی اور توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانا ہماری اولین ترجیح ہے، حکومت مربوط توانائی کے نظام پر توجہ دے رہی ہے ،ْ توانائی شعبے میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ،ْ بارہویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے، بارہویں پانچ سالہ منصوبے میں بجلی اور توانائی کے نظام اور انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے اہم اقدامات کا تعین کیا جا رہا ہے ،ْتوانائی بحران کے خاتمے کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہونے کو ہے، اگلے مرحلے میں نظام اور اس میں بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

وہ سی ڈی ڈبلیوپی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں توانائی کے پانچ منصوبے پش کئے گئے۔ پہلا منصوبہ آئل اور گیس کی ریسرچ کیلئے پاکستان پٹرولیم اور ہائوس کی تعمیر و توسیع ہے جس کو اجلاس نے منظور کر لیا، منصوبے پر 42 کروڑ 44 لاکھ 2 ہزار روپے لاگت آئے گی۔ دوسرا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ ہے جس کی کل لاگت 50 ارب 3 کروڑ 43 لاکھ روپے ہے جس کو حتمی منظوری کے لئے ایکنک کو بجھوادیا گیا۔

تیسرا منصوبہ 3ارب 14 کروڑ 71لاکھ 2 ہزار روپے کی لاگت کا 220 کے وی جوہرآباد سب سٹیشن کی تعمیر ہے جس کو منظوری کے لئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ چوتھا منصوبہ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے توانائی کی ترسیل کا ہے جس کی کل لاگت75 ارب 85 کروڑ96 لاکھ 3 ہزار روپے ہے جس کو اجلاس نے حتمی منظوری کے لئے ایکنک کو بھجوادیا۔ پانچواں منصوبہ سندھ میں سولر انرجی پروجیکٹ کا پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 5 ارب روپے ہے اس کو بھی حتمی منظوری کے لئے ایکنک بھجوا دیا گیا ۔

دریں اثناء سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشنز کے پانچ منصوبے پیش کئے گئے جس میں پہلا منصوبہ چار رویہ لنک ہائے وے کی تعمیر کا ہے جو لاہور سیالکوٹ موٹر وے کو نارنگ منڈی ، نارووال اور نارووال کے مشرقی بائی پاس کو لنک کرے گا جس کے لئی19 ارب99کروڑ 82لاکھ 78ہزار روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے جس کو منظوری کے لئے ایکنک کو بھجوا دا گیا۔

دوسرا منصوبہ فیصل آباد۔خانیوال موٹر واے ( ایم۔4 ) کی تعمیر کا ہے جس کی کل لاگت 60 ارب 82 کروڑ 3 لاکھ روپے ہے جس کو منظوری کے لئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ تیسرا منصوبہ ضلع مانسہرہ کی ترقیاتی سیکم کا ہے جس کے لئے ایک ارب 2 کروڑ5 لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ ہے جس کو اجلاس نے منظور کرلیا۔ٹرانسپورٹ کا ایک اور منصوبہ 49 کروڑ 98لاکھ ایک ہزار روپے کا پیش کیا گیا جس کا مقصد ملیر بند دادا بھوئے ٹائون سے پی این ایس مہران تک کی سڑک کی تعمیر کا ہے جس کو اجلاس میں منطور کرلیا گیا ۔