صحافیوں پر تشدد، پی آئی او کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدیں،

حقائق سے ایوان کو آگاہ کیا جائیگا، وزیر اطلاعات

جمعہ مئی 16:15

صحافیوں پر تشدد، پی آئی او کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدیں،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگز یب نے سینٹ کو صحافیوں پر تشدد کے حوالے سے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ یوم صحافت کے موقع پر صحافیوں پر تشدد کے حوالے سے وزارت اطلاعات نے پریس انفارمیشن آفیسر(پی آئی او) کی سربراہی میں کمیٹی کو تشکیل دید ی ہے،کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کو سزائیںدیںجائیں گی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق صحافی یوم صحافت کے موقع پر ریلی نکال رہے تھے،جب ڈی چوک پرپہنچا پولیس نے ریلی کے حوالے سے این او سی مانگی،اسی اثناء میں صحافیوں کا’’اینٹی رئیٹ فورس‘‘ کے ساتھ تصادم ہوا،وزارت اطلاعات اسی وقت آگاہ کیا جانا چاہیے تھا،اس سے پہلے پولیس نے انہیں ایکسپریس چوک پر روکنے کی کوشش کی تھی،تاہم اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ایوان کو اس کی تفصیلی رپورٹ وزیر داخلہ آئندہ اجلاس میں پیش کریں گے۔

(جاری ہے)

مریم اورنے نے کہا کہ ماضی میں بدترین سنسرشپ کی وجہ سے اخبارات سفید چھپتے تھے، بدقسمتی سے چالیس سال گزرنے کے باجود آج بھی ملک میں بد ترین سنسرشپ موجود ہے، اخبار ات آج سفید تو نہیں چھپتے مگر ذہنی تشدد کا شکار ہے،آج اخبارات میں کالم اور خبروں کو چھپوانے سے روک کر اور ٹیلی وژن کو میوٹ کرکے کونگے کردئیے ہیں،اظہار رائے کی آزادی اگر توہین عدالت کی زمرے میں آئے گی تو ملک میں خوف کی فضا قائم ہوگی،آزادی اظہار چوائس نہیں، ہر کسی کا بنیادی حق ہے،تیسری بار منتخب وزیر اعظم کی آواز کو ٹیلی وژن میں’’میوٹ‘‘ کر کے گونگا کردیا، بحیثیت وزیر اطلاعات اس پر شرمندہ ہوں،،پیمرا کی کمیٹی سے مجھے یہ کہہ کر نکالا کہ’’وزیراطلاعات بیانات میں مصروف ہیں کمیٹی کیلئے ان کے پاس وقت نہیں،اگرمیں اپنا کام نہ کروں تو کیا کروں اسی ایوان سے اداروں کے مابین گفتگو کی بات ہوئی،ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر ہم اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ 12گھنٹے گزرنے کے باجود زارت اطلاعات ذمہ داری ،،وزارت داخلہ پر ڈال رہی ہے،ایلیٹ فورس اساتذہ اور صحافیوں کے خلاف تو حرکت میں آتی ہے مگر فیض آباد دھرنے کے موقع پر ایلیٹ فورس کہیں نظر آئی،،دھرنا کے موقع پر اسلام آباد تک رسائی لوگوں کیلئے مشکل بنا دی گئیں،آج نہ صرف آرٹیکل چھاپنے سے روکتے ہیں بلکہ کچھ علاقوں میں پوری چینل کی نشریات بند کی جاتی ہے،وہ کونسا قا نون ہے جو خفیہ ہاتھوں کوٹیلی وژن کی نشریات بند، خبروں اور کالم کو چھاپنے سے روک رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ اپوزیشن صحافیت کی آزادی کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہے،اگر میں وزیر اطلاعات ہوتا تو کب کا مستعفیٰ ہو چکا ہوتا، وزیر اطلاعات کو مستعفی ہونا چاہیے،حکومت واقعہ کی مکمل تحقیقات کروا کر ایوان کو آگاہ کیا جائے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ صحافت آج خطرات سے دوچار ہیں،میڈیا ان ڈکلیئرڈ مارشل لاء کی زد میں ہے،ایک طر غیر جمہوری قوتیں میڈیا کو نشانہ بنا رہی تو دوسری جانب دہشتگردوں کی زد میں ہیں،صحافیوں کو پارلیمنٹ اور جمہوریت کے بارے میں رپورٹنگ سے روکا جارہا ہے،لال حویلی والے کی تقریر تو ایک ایک گھنٹہ نشر کی جاتی ہے مگر قبائلیوں کی آواز پانچ سکینڈ کیلئے بھی نشر نہیں کی جاتی،اس بندش کے خلاف پارلیمنٹرین اور صحافیوں کو ملک کر احتجاج کرنا ہوگا۔

سینیٹر مشتاق احمدنے کہا کہ صحافت قابل مذمت ہے،اس طرح کے واقعات کو نہ روکا گیا تو آگے بڑھے گا،،وزیر اطلاعات صرف مذمت نہ کرے اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔ سینیٹر ایوب نے کہا کہ وزیر اطلاعات جواب دینے کی بجائے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں۔