ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اجلاس،

ادویات پر 2-D بارکوڈ پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا سافٹ ویئر تیار کیا جا چکا ہے، ڈریپ کی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات آویزاں کر دی گئیں ہیں، چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ اختر حسین

جمعہ مئی 16:24

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ اختر حسین کی سربراہی میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں ادویات پر 2-D بارکوڈ پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ عدالت عظمی نے 28 فروری 2018 کو ایک کیس کی سماعت کے دوران فارما کمپنیوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ ڈریپ کے متعارف کردہ 2-D بار کوڈ پر تمام فارما کمپنیاں تین ماہ میں عمل درآمد کریں۔

اس حوالے سے ڈاکٹر شیخ اختر حسین نے بتایا کہ ایک سافٹ ویئر تیار کیا جا چکا ہے اور ڈریپ کی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات آویزاں کر دی گئیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سات سو خط لائسنس شدہ فارما کمپنیوں کو جار ی کئے گئے ہیں جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ 2-D بار کوڈ پر عمل درآمد کی موجودہ کیفیت سے آگاہ کر دیں تاکہ اس سلسلے میں عدالت عظمی کو رپورٹ مرتب کی جا سکے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پی پی ایم کے وائس چیئرمین فارما بیور وکے نمائندگان پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن اور گلوبل ہیلتھ سپلائی چین کے نمائندہ بھی موجود تھے۔اس حوالے سے پی پی ایم نے بتایا کہ ان کو 2-D بار کوڈ کے لیے اور وقت درکار ہے۔جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بتایا کہ وہ اس پر پہلے ہی عمل درآمد کر چکے ہیں۔ترجمان وزارت قومی صحت نے کہا کہ 2-D بارکوڈ ڈریپ کا اہم اقدام ہے جس کے نفاذ سے جعلی اور غیررجسٹرڈ ادوایات کے خاتمے میں مدد ملے گی اور جعلی ادویات کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے میں پورے ملک میں کریک ڈائون جاری ہے تاکہ ملک کو جعلی ادویات سے پاک کیا جاسکے۔