بجٹ میں تعلیم، صحت اورپینے کے صاف پانی کے منصوبوں کو فوقیت دیکر ان کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے،میر عبدالقدوس بزنجو

سیاست پیار و ومحبت اورمٹھاس کا نام ہے ، بہتر ہے سیاست میں دوریوں اور رنجشوں کو قریب نہ آنے دیا جائے، وزیراعلیٰ بلوچستان کی پریس کانفرنس

جمعہ مئی 16:50

خضدار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ موجودہ بجٹ میں تعلیم،، صحت اورپینے کے صاف پانی کے منصوبوں کو فوقیت دیکر ان کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے ، تاکہ ان شعبوں کو ترقی دیکر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے، صوبہ بھر میں کوئی ایسا اسکول باقی نہ رہے کہ جو بغیر چھت کے رہے ، اسی طرح ہیلتھ سیکٹر کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ،ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے بھی صوبائی حکومت نے رقم مختص کی ہے تاکہ ہسپتالوں میں عوام کو علاج و معالجے کی سہولت میسر آسکے ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی بجٹ میں خصوصیت دی گئی ہے ،بد قسمتی سے موجودہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی پسماندگی کو خاطر میں نہیں لائی اور صوبے کو اس کا حق دلانے پر پر زیادہ توجہ نہیں دی، موجودہ وفاقی حکومت زیادہ بجٹ پنجاب کی طرف منتقل کرتی رہی اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنی نشستوں کی فکرزیادہ لاحق رہتی ہے ۔

(جاری ہے)

بلوچستان میں ماضی میں یہ ہوتا تھا کہ سابق اسکیموں کے نام پر دوسرا اسکیم رکھ کر پیسے ضائع کرتے ہم نے جب اس معاملے کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ہے،موجودہ بجٹ میں عوام کے لئے نئے منصوبے تشکیل دیکر زیادہ تر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو اہمیت دی گئی ہے ۔چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری اور ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی نے ہمار ے مہربان ہیں ان سے دیرینہ رفاقت قائم ہے ، نواب ثناء اللہ زہری چیف آف جھالاوان اور ہمارے بڑوں میں شامل ہے ،کافی عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ،آج میں خضدا ر آیا ہوں تو یہاں ملاقات بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو سننے کا موقع بھی ملا ۔

ان خیالات کا اظہارا نہوں آغاہائوس خضدار میں ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار قیصر خان ناصر ،ڈی آئی جی خضدار رینج نثار تنولی، اسسٹنٹ کمشنر خضدار حبیب نصیر ناصر،ایس ایس پی ضیاء مندوخیل ، وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ ، میر جمعہ خان شکرانی ، وڈیرہ محمد صالح جاموٹ ، سردار بلند خان غلامانی ، سردار عزیز محمد عمرانی ، میر فدا قلندرانی ،منیراحمد قمبرانی ،میر محمد اکبر جتک ، میر طریل جتک،میر سعیداحمد زرکزئی ، رئیس جاوید سوز مینگل ، عید محمد ایڈوکیٹ ، عبدالحی زہری، بشیراحمد جتک ، میر شاہجہان عمرانی ، میر عبدالوہاب عمرانی ، ثناء اللہ مینگل سمیت دیگر سیاسی رہنماء آفیسرز موجود تھے۔

اس سے قبل آغا ہائوس پہنچے پر ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی سمیت دیگر سیاسی و قبائلی عمائدین نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا استقبال کیا اور انہیں آغاہائوس لائے۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی نے نیوز کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہاکہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو و ان کے رفقاء کو آغا ہائوس آنے پر خوش آمدید کہتاہوں ، ان سے ہمارے دیرینہ رفاقت ہے ، آج وہ یہاں آئے اور ہمیں عزت بخشی ہے اس پر ہم ان کے مشکور ہیں ، یہ گھر ان کا اپنا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میںآئے ہیں ۔

سیاست پیار و ومحبت اورمٹھاس کا نام ہے ، بہتر تو یہی ہے کہ سیاست میں دوریوں اور رنجشوں کو قریب آنے نہیں دیا جائے ۔ جب کہ بلوچستان کی قدیم روایات ہیں کہ یہاں تمام سیاسی و قبائلی زعماء ہمیشہ ساتھ چلنے کو فوقیت دی ہیں او ر ایک دوسرے کے بازو و معاون ثابت ہوئے ہیں ہم بھی یہی خواہش رکھتے ہیں انہیں روایات کو زندہ بنا کر جھالاوان و بلوچستان کی اس منفرد مثال کو زندہ و قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ نواب ثناء اللہ خان زہری چیف آف جھالاوان ہیں اور ہمارے بڑوں میں شامل ہے ، ہم ہر وقت ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں ،سیاست میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ، آج میں یہاں ڈسٹرکٹ چیئرمین آغا شکیل احمددرانی کے پاس آیا ہوں یہ بھی نواب کا گھر ہے کافی عرصہ سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی تھی تو آج اس سلسلے میں آئے ہیں ملاقات بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو ہم سنے بھی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ اگلا بجٹ 11مئی کو پیش ہورہاہے اس بجٹ میں عوام کی بنیادی ضرورتوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر کے لئے ہم نے زیادہ پیسے مختص کیئے ہیں ، تاکہ عوام کو تعلیم ملے اور ان کا علاج صحیح معنوں میں ہو ، اس کے لئے ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ پورے بلوچستان کے تمام اضلاع میں اسکولز کی حالت کو بہتر بنانے اور ان کی تعمیر و مرمت اور نئے اسکولز کے قیام کے لئے خطیررقم مختص کی ہے ، صوبے میں کوئی ایسا اسکول نہ ہو کہ جو چھت کے بغیر ہو، ایک ارب روپے ٹیچرز لیکچرارز اور پروفیسرز کو ٹریننگ دینے کے لئے مختص کی ہیں تاکہ ان کی استعداد کار اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکے۔

اسی طرح صوبے بھر کے ہسپتالز کی حالات بہتر بنانے کے لئے بھی ہم نے رقم مختص کی ہیں ،تاکہ عوام کا صحیح معنوں میں مفت علاج ہو ،یہ تمام بنیادی سہولیا ت اور ضرورتیں ہیں جو عوام کا حق ہے و ہ انہیں مل سکیں ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کواہمیت دینے کی بجائے زیادہ رقم پنجاب پر لگائی ہے تاکہ ان کی نشستیں بچ سکیں اور انہیں اپنی سیٹوں کی زیادہ فکر رہی اور انہوںنے بلوچستان کو نظر انداز کردیا۔

حالانکہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوبے میں بلوچستان پیکج دیا ، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کی صورت میں کسی حد تک صوبے کے عوام کی ضرورتوں کوپورا کرنے کی کوشش کی تاہم موجودہ وفاقی حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا ، یہ گلہ ہمیں وفاق سے ضرور ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے مذید کہاکہ صوبے میں ماضی میں عوام کے بنیادی مسائل پر اتنی توجہ نہیں دی گئی ، ہم نے جب اسکیمات کا بغور جائزہ لیا تو ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ جو منصوبے پہلے سے بنے ہیں پی ایس ڈی پی میں دو بارہ ان منصوبوں کو شامل کرکے عوام کے پیسے کو ضائع کیا گیا ہے تاہم ہمارے دور میں ایسا نہیں ہوگا ہم نے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کررکھے ہیں ۔

ہماری حکومت صحیح معنوں میں عوام کی نمائندگی کاحق بھی ادا کریگی ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ این ٹی ایس کے تحت 413امیدواروں کے آرڈرز اگلے دو سے تین دن میں کردیاجائیگا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ امن وامان کا قیام صوبائی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اس پر ہم کام کررہے ہیں صوبائی دارلحکومت سمیت پورے بلوچستان میں عوام کو تحفظ کا احساس دلانے میں حکومت اپنا کردار ادا کریگی ، آپ نے دیکھا ہوگا کہ ماضی بنسبت صوبے میں زیادہ امن قائم ہوا ہے۔