عمران کا وزیراعظم بننا پاکستان کی بدقسمتی ہوگی، فضل الرحمن

5سال پہلے تو کسی کو صوبہ یادنہیں آیا، آج اچانک کیوں آواز بلند ہوگئی ،ْ میڈیا پر حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں دکھائی جاتی ہیں، جو یہ سب کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں ،ْانصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے خدا کے لئے انصاف فراہم کریں ،ْلاہور کے مینار پاکستان پر 13 مئی کا جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا ،ْمیڈیا سے گفتگو

جمعہ مئی 17:22

عمران کا وزیراعظم بننا پاکستان کی بدقسمتی ہوگی، فضل الرحمن
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ایم ایم اے کے صد ر مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا وزیر اعظم بننا پاکستان کی بد قسمتی ہوگی ،ْ 5سال پہلے تو کسی کو صوبہ یادنہیں آیا، آج اچانک کیوں آواز بلند ہوگئی ،ْ میڈیا پر حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں دکھائی جاتی ہیں، جو یہ سب کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں ،ْانصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے خدا کے لئے انصاف فراہم کریں ،ْلاہور کے مینار پاکستان پر 13 مئی کا جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا۔

جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ایم اے کے صدر جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے حکمران ڈلیور نہیں کر سکے اور عوام کی کوئی حیثیت نہیں، ملک میں عدلیہ کا مارشل لاء لگا دینا چاہیے، میں کہتا ہوں ایک سال مارشل لاء لگا کر عوام کی خدمت کریں اور پھر الیکشن لڑیں عوام انہیں ووٹ نہیں دے گی ۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈیا پر حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں دکھائی جاتی ہیں، جو یہ سب کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں، انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے خدا کے لئے انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر پاکستان کے وزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہو گی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کا لاہور کے مینار پاکستان پر 13 مئی کا جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا۔انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کا تجربہ پہلی بار نہیں ہے ،ْ متحدہ مجلس عمل پہلے بھی کامیاب رہی ہے ،ْایم ایم اے جب نہیں رہی تو اس کا کون ذمہ دار ہے اس پر بحث اب نقصان کا باعث ہے، آنکھوں ہی آنکھوں میں شکوہ کرنا بہتر ہے ،ْہماری جماعت آئندہ الیکشن ایم ایم اے کے نام پر کتاب کے نشان کے ساتھ لڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلے روز سے ہی بہاولپور اور سرائیکی صوبہ کی حمایت کی ہے ،ْ جو لوگ اب اس کی حمایت کر رہے ہیں انہیں 5 سال قبل کیوں یاد نہ آیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر مجھ سے نہیں وہاں کی عوام سے پوچھا جائے ہم چاہتے ہیں وہاں ترقی ہو ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے بارے وزیراعظم کی تقریر سے تشویش پیدا ہوئی ، مجھے اس پر تحفظات ہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کی عوام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف میرے دوست ہیں، میری جماعت 1988ء سے غلام گردشوں میں گھوم رہی ہے، نوبزداہ نصر اللہ کہتے تھے کہ ہم ذاتی تعلقات میں قدامت پرست ہیں، ہم یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس وقت پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے، پاکستان اب کسی داخلی بحران کا متحمل نہیں ہے ، ہم اداروں اور فوج کا احترام کرتے ہیں، عمران خان سے الحاق کرنے سے قبل ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا۔