بھارت میں" کشمیر بنے گا پاکستان" کے بعد"علی گڑھ یونیورسٹی بنے گی پاکستان" کے نعروں پرکھلبلی مچ گئی

ہندوں احیا پسند تنظیموں کے نمائندوں کو یونیورسٹی میں داخلے پر طلباء بپھر گئے،وائس چانسلر طارق منصور کے پتلے نذرِ آتش

جمعہ مئی 18:46

علی گڑھ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) بھارت میں" کشمیر بنے گا پاکستان"" کے بعد"علیگڑھ یونیورسٹی بنے گی پاکستان"" کے نعروں پرکھلبلی مچ گئی،ہندوں احیا پسند تنظیموں کے نمائندوں کو یونیورسٹی میں داخلے پر طلباء بپھر گئے،وائس چانسلر طارق منصور کے پتلے نذرِ آتش کیے۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے سب سے بڑے صوبے مقبوضہ کشمیر کے بعد اب مسلمانوں کے سب سے بڑے اور تاریخی تعلیمی مرکز "علی گڑھ مسلم یونیورسٹی" میں پاکستان اور قائد اعظم کے حق میں نعرے۔

تعلیمی مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر تنازع کا ہدف بن گئی ہے۔۔بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے اقتدار کو خود ہی ختم کرنے کے درپہ ہوچکی ہے۔ بی جے پی کے مقامی رکنِ پارلیمنٹ ستیش گوتم کی جانب سے یونیورسٹی کے طلبہ یونین ہال میں لگی بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر پر اعتراض اور اس کو وہاں سے ہٹانے کے مطالبے نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر گیا ہے۔

(جاری ہے)

تصویر کے خلاف ہندو احیا پسند تنظیموں ہندو جاگرن منچ، ہندو یووا واہنی اور بی جے پی کی طلبہ شاخ اے بی وی پی کے کارکنوں نے بدھ کو مسلم یونیورٹی میں گھسنے کی کوشش کی۔مشتعل مظاہرین نے محمد علی جناح اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے پتلے نذرِ آتش کیے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔جب یونیورسٹی کے طلبہ نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا تو مبینہ طور پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے طلبہ یونین کے صدر اور سیکریٹری اور دو سابق صدور سمیت تقریباً ایک درجن طلبہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مسلم طلبہ نے قائد اعظم اور پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے طلبہ نے سول لائنز تک مارچ کیا اور پولیس اسٹیشن جا کر اس اقدام کی مخالفت اور ہندو کارکنوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔یونیورسٹی کے کیمپس میں تاحال کشیدگی ہے اور وہاں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے سابق صدر زیڈ کے فیضان نے کہا کہ جب چند شرپسند یونیورسٹی اور محمد علی جناح کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مسلم یونیورسٹی کی طرف بڑھ رہے تھے تو پولیس نے ان کو یونیورسٹی کے صدر دروازے 'بابِ سید' تک پہنچنے کیسے دیا انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شرپسندوں کا ہدف رہی ہے لیکن ملک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔

زیڈ کے فیضان نے مزید کہا کہ محمد علی جناح کی تصویر یونین ہال میں 1938ء سے آویزاں ہے۔ وہ یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے لائف ممبر تھے اور یونیورسٹی کے طلبہ کو اس پر فخر ہے۔