قومی اسمبلی میںبجٹ پر بحث جاری، اپوزیشن کا بجٹ منظور کرنے سے قبل این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے کا مطالبہ

ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والی حکومت نے اپوزیشن کے حلقوں کو جان بوجھ کر ترقیاتی سکیموں کیلئے نظرانداز کیا سے استثنیٰ قرار دے دیا ہے، حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے ، مڈل ایسٹ کے گاڈ فادر کے تین بینک پاکستان میں بند ہورہے ہیں ،سیاستدانوں کی غلطیاں قوم بھگت رہی ہے، بجٹ میں ڈیموں کیلئے ایک روپیہ نہیں رکھا گیا، تعلیم کیلئے مختص بجٹ ناکافی ہے،بجٹ میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے بھی کوئی پلان نہیںدیا گیا،70 سالوں میں دو جماعتوں نے صرف اپنی باریاں لیں مگر عوام کیلئے کچھ نہیں کیا،اپوزیشن ارکان کا بجٹ پر بحث میں اظہار خیال کالا باغ ڈیم پر سیاست کی جارہی ہے،صوبے کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کریں، نواز شریف کے والد 1938 میں پاکستان آئے تھے تب سے وہ رائیس ہیں وہ اپنے باپ کا پیسہ لیکر باہر گئے ہیں ، تعلیم کیلئے بجٹ ناکافی ہے،برآمدات بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں، حکومتی اور اتحادی ارکا ن کابجٹ پربحث میں اظہار خیال

جمعہ مئی 18:59

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19 کے بجٹ پر عام بحث تیسرے روز بھی جاری رہی اور اپوزیشن نے بجٹ منظور کرنے سے قبل این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والی حکومت نے اپوزیشن کے حلقوں کو ترقیاتی سکیموں میں جان بوجھ کر نظرانداز کیا، حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے ، مڈل ایسٹ کے گاڈ فادر کے تین بینک پاکستان میں بند ہورہے ہیں ،سیاستدانوں کی غلطیاں قوم بھگت رہی ہے، بجٹ میں ڈیموں کیلئے ایک روپیہ نہیں رکھا گیا، تعلیم کیلئے مختص بجٹ ناکافی ہے،،بجٹ میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے بھی کوئی پلان نہیںدیا گیا،70 سالوں میں دو جماعتوں نے صرف اپنی باریاں لیں مگر عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

حکومتی اور اتحادی ارکان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم پر سیاست کی جارہی ہے،صوبے کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کریں، نواز شریف کے والد 1938 میں پاکستان آئے تھے تب سے وہ رائیس ہیں وہ اپنے باپ کا پیسہ لیکر باہر گئے ہیں ، تعلیم کیلئے بجٹ ناکافی ہے،برآمدات بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19 کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق الله نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان کو اعزاز حاصل ہوا ہے کہ چھٹا بجٹ حکومت نے پیش کیا ہے اپوزیشن اس بات پر زور دے رہی تھی کہ حکومت چار مہینے کا بجٹ پاس کرے،مگر اکثریت کے بل بوتے پر تجویز نہیں مانی گئی۔

مفتاح اسماعیل کو جانتے ہیں کہ وہ فنانس کا ماہر ہے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس سے تینوں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے واک آئوٹ کیا تھا سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبے پورے سال کا بجٹ نہ دیں تو صوبوں کو منتقل ہونے والے محاصل کا کیا مستقبل ہوگا ۔ 2018-19 کے بجٹ کا حجم پانچ ہزار 329 ارب روپے ہے، گزشتہ سال کا ایف بی آر کا ٹارگٹ حاصل نہیں کیا گیا جبکہ اس سال 4 ہزار چار سو چھتیس ارب کا ہدف دیا گیا ہے ۔

ذرائع بتائیں یہ کہاں سے پورا کریں گے۔ یہ الفاظ کا ہیر پھیر ہے،ایوان میں غلط اعدادوشمار بتائے گئے ۔ صاحبزادہ طارق الله نے کہا کہ ملک میں آٹھ لاکھ تک ٹیکس گزار ہیں اس بجٹ میں جو لوگ ٹیکس بھی دیتے تھے ان کو ریلیف دیا گیا ہے جن کی دولت ایک ارب سے زیادہ ہے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بڑے سرمایہ داروں میں پہلے نمبر شاہد خان پاکستانی نژاد ہیں ، دوسرے نمبر پر آصف زرداری ہیں‘ انوار پرویز بھی اارب پتی ہیں‘ نواز شریف چوتھے نمبر پر ہے‘ صدر الدین ہاشوانی‘ ملک ریاض‘ رفیق حبیب‘ دیوان مشتاق‘ سلطان لاکھانی‘ عبدالغفور یہ لوگ بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں ان لوگوں سے کتنا ٹیکس لیا گیا ہے۔

غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، نومولود بچہ ایک لاکھ 25 ہزار کا قرض دار ہے، 2017 کے اے ڈی پی سے 109 سکیمیں نکالی گئی ہیں ہمارے علاقوں میں پندرہ بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ہمارے علاقوں میں جنگلات ہیں مگرگیس نہ ہونے کی وجہ سے سردیوں میں جنگل کاٹے جاتے ہیںانہوں نے کہا کہ آپ جس مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں آپ نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے جس کی سزا مل رہی ہے لوگوں نے ہمیں منتخب کرکے بھیجا ہے ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے۔

آپ نے اپوزیشن کو کوئی عزت نہیں دی اس کی مذمت کرتا ہوں الله آپ سے حساب لے گا۔ فاٹا سے رکن اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ وزارتیں ان لوگوں کو دی جاتی ہیں جو وزارتوں کو سمجھتے نہیں ہیں۔ مڈل ایسٹ کے گاڈ فادر کے تین بینک پاکستان میں ہیں جو بند ہورہے ہیں ساری ہماری کمزوریاں ہیں جو قوم بھگت رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے بزنس سے ہمارے ملک کو پانچ سے چھ سو ارب روپے کا ٹیکس مل رہا ہے مگر اس کے لئے کوئی ایک پالیسی نہیں ،،سی پیک پر کام ہورہا ہے، ٹرانسپورٹ کے لئے ایک پلیٹ فارم ہونا چاہئے ، بجٹ میں ڈیموں کے لئے ایک روپیہ نہیں رکھا گیا فاٹا میں اختیار عوام کے پاس نہیں ہے، اے ڈی پی کا پیسہ واپس آجاتا ہے بجٹ پاس ہونے سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔

فاٹا کو سپیشل پیکج دیا جائے ٹیکسوں سے بھی استثنیٰ دیا جائے ،نوجوانوں کو سکالر شپس بھی دی جائیں نوجوانوں کو سکالر شپس پر باہر بھیجا جانا چاہئے۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہونے کہا کہ آصف زرداری بڑی رقم ٹیکس کی مد میں دیتے ہیں بجٹ سے پہلے این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا ، یہ بجٹ الیکشن کے لئے بنایا گیا ہے، یہ حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ، معاشی ریفارمز نہیں کی گئیں بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔

مسلم لیگ (ن)کے رکن اسمبلی چوہدری خادم حسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی اچھی جماعت ہے مگر انہوں نے اپنے ورکروں کو نکال دیا معصوم بچیوں سے زیادتی کے واقعات روکنے کے لئے قانون سازی کی جائے اور ایسے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے چاروں صوبے فیصلہ کریں یہ ڈیم بننا چاہئے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے والد 1938 میں پاکستان آئے تھے تب سے وہ رائیس ہیں وہ اپنے باپ کا پیسہ لیکر باہر گئے ہیں ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی امجد علی خان نے کہا کہ ملک میں دو نظام چل رہے ہیں ، سی پیک کا اکنامک زون میانوالی میں کیوں نہیں دیا گیا۔ میانوالی کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا، ووٹ کو عزت دو کا مطلب ہے کہ عوام کے ساتھ انصاف کرو۔ کیا آج غریب کو انصاف ملا ،کیا وجہ ہے کہ پارلیمنٹ پر انگلیاں اٹھتی ہیں ،کہتے ہیں کہ ووٹ کو تقدس نہیں ملا ،آپ کو کرپشن پر نااہل کیا گیا آپ پارلیمنٹ کے پیچھے چھپتے ہیں آپ کے اس وقت کان بھی بند تھے آپ اپنے مقاصد کے لئے اقتدار چاہتے ہیں اس ملک کا وزیراعظم عمران خان بنے گا۔

جے یو آئی (ف ) کی رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ بجٹ متوازی ہونا چاہئے اس بجٹ میں صرف دس ارب روپے تعلیم کے لئے رکھے گئے ہیں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے بھی کوئی پلان نہیں رکھا گیا انڈسٹری بند پڑی ہوئی ہیں، شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ہائوسنگ پالیسی کی کمی ہے جو حکومت نے نہیں بنائی پالیسی بنانے سے سالانہ بیس لاکھ نوجوانوں کو ملازمت مل سکتی ہے ہماری برآمدات درآمدات سے کم ہیں درآمدات پچاس ارب ڈالر ہیں پانی کی بہت کمی ہے ، بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے لئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا۔

رکن اسمبلی ارباب عامر ایوب نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں ایک روپے کا فنڈ بھی خیبرپختونخوا میں خرچ نہیں کیا گیااڑھائی کروڑ کی آبادی کو نظر انداز کیا گیا ستر سالوں میں دو جماعتوں نے باریاں لیں مگر عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اس ایوان میں امیروں کے لئے ایمنسٹی سکیمیں منظور کی گئیں مگر غریبوں کے لئے کوئی ایمنسٹی سکیم نہیں دی پاکستان غریب ملک نہیں ہے مگر ہم نے اسے غریب بنا دیا ہے میرے حلقے میں لاکھوں روپے بجلی کے بل بھیجے جارہے ہیں اس ایوان سے درخواست ہے کہ ان لوگوں کو ایمنسٹی سکیم دی جائے ملک میں اب ڈبل سٹینڈرڈ نہیں چلے گا۔