مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے ، میر واعظ عمر فاروق

عالمی برادری نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار دا کرے

جمعہ مئی 20:12

سری نگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںحریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے مقبوضہ علاقے کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی سنگین اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اور انسا نی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نہتے کشمیری عوام پر بھارتی فورسز کی طرف سے ڈھائے جانیوالے مظالم کا نوٹس لیںاور دیرینہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیخلاف موثر آواز اٹھانا حالات کا ناگزیر تقاضا ہے اور مشترکہ مزاحمتی قیادت نے موجودہ تشویشناک صورتحال اور دیگر تمام عوامل کومد نظر رکھتے ہوئے تفصیلی مشاورت کے بعدکشمیری قوم کے سامنے ایک جامع پروگرام رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یہ کشمیری حریت پسند عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشترکہ حریت قیادت کے پروگرام پر من و عن عمل کریں اور تحریک مزاحمت کوآگے بڑھانے میں اپنا کلیدی کردارادا کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر خصوصاً جنوبی کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ شوپیاں، ترال ، کولگام ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں ہر روز کشت وخون، ظلم و تشدد اور قتل و غارت کا سلسلہ دراز کیا جارہا ہے چھاپوں، گرفتاریوںاور شہداء کے لواحقین کو زد وکوب جیسے واقعات ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں ۔

میرواعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز شوپیاں میں ایک کشمیری طالب علم عمر کمہار کو شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو گولیوں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ا ٓخر کب تک کشمیریوں کا قتل عام جاری رہیگا کشمیریوں کی تیسری نسل اس مسئلہ سے جڑ چکی ہے۔ انہوںنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کی منصفانہ حل پر اپنی توجہ مرکوز کرے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میںبھارتی فورسز کے ہاتھوں ہر ایک ہلاکت بھارت کیخلاف غم و غصے اور نفرت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ وہ فوجی قوت ، طاقت اور ظلم و تشدد کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کو ختم کرلے گا تو وہ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہے۔انہوںنے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو صرف حق خودارادیت کو بنیادپر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔