کمرشل امپورٹرز کے مسائل فوراً حل کیے جائیں،لاہور چیمبر

جمعہ مئی 20:15

کمرشل امپورٹرز کے مسائل فوراً حل کیے جائیں،لاہور چیمبر
لاہور۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ہیں، ان کے مسائل سے مقامی صنعتیں بھی متاثر ہونگی۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید، سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے کہا کہ کمرشل امپورٹرزدرآمدی سطح پرفائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اداکرتے تھے جس کے بعد کمرشل امپورٹرز کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن حالیہ بجٹ میں فائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم سے کم قرار دیتے ہوئے درآمدی خام مال کی ری اسسمنٹ اور آڈٹ اوپن کرتے ہوئے مزید ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ کمرشل امپورٹرز کے ساتھ سراسرناانصافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل امپورٹرز ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کی پیداواری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خام مال درآمد کرتے ہیں اور صنعتوں کو خام مال کی سپلائی چین کا حصہ ہیں۔

(جاری ہے)

درآمدی سطح پر فائنل ٹیکس ریجم میں 6فیصد ٹیکس کو کم سے کم قرار دینے ، ری اسسمنٹ اور اضافی ٹیکس عائد کرنے سے یقینی طور پر درآمدی لاگت میں نا قابل برداشت حد تک اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں خام مال بھی مہنگا ہو گا ۔

ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کو مہنگا خام مال ملنے سے پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی جبکہ چھوٹی صنعتوں مناسب داموں پر خام مال نہ ملنے سے ان صنعتوں کے بند ہو جانے کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ مسئلہ فوری طور پر حل کرے اور تجویز دی کہ کمرشل امپورٹرز کو ریفنڈ ریجیم میں لایا جائے جس سے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔

متعلقہ عنوان :