سینیٹر مشاہد حسین سید سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین منتخب

کوشش کرونگا کمیٹی خارجہ پالیسی کے معاملات پر ایک آواز پر بات کرے، غیر ملکی پالیسی پاکستان کی پارلیمنٹ کی نگرانی کے تحت ہونی چاہئے، پڑوسیوں کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کمیٹی کی ترجیحات میں ہیں، مشاہد حسین سید

جمعہ مئی 20:42

سینیٹر مشاہد حسین سید سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین منتخب
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سینیٹر مشاہد حسین سید کو سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے ۔جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس میں سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی نے چیئرمین کمیٹی کیلئے سینیٹر مشاہد حسین سید کا نام تجویز کیا جس کی سینیٹر نزہت صادق نے تائید کی جس کے بعد تمام اراکین نے متفقہ طور پر سینیٹر مشاہد حسین سید کو سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا۔

تمام ارکان نے سینیٹر مشاہد حسین سید کو اپنے متفق انتخابات کے حوالے سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے قومی مفاد اور بین الاقوامی تصویر کو اپنی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے فروغ اور تحفظ دینے کیلئے سب سے مناسب شخص تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی ایک ایسا علاقہ ہے جس میں وسیع قومی اتفاق رائے کی ضرورت، قومی مفاد اور پاکستان کی بین الاقوامی تصویر محفوظ، رکھنا ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ کمیٹی خارجہ پالیسی کے معاملات پر ایک آواز پر بات کرے۔سینٹرمشاہد حسین نے کہا کہ غیر ملکی پالیسی پاکستان کی پارلیمنٹ کی نگرانی کے تحت ہو نی چاہئے کیونکہ اس سے پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندوں کی نمائندگی ہو تی ہے اور خارجہ پالیسی عوام اور ان کے مفادات اور خواہشات کی نمائندگی کر تی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی معاملات ، پڑوسیوں کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کمیٹی کی ترجیحات میں ہیں، سی پیک اور سب سے بہترین دوست چین کی حمایت، اتحاد کا فروغ ہماری غیر ملکی پالیسی کی بنیاد ہے انہوں نے کہا مسلم ا مہ میں کشمیر، فلسطین اور روہنگیا جیسے معاملات پر پاکستان کے فعال اور اصول سازی کی پالیسی کا تعاقب کرتے ہوئے خارجہ امور کمیٹی پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان پل بنانا چاہتی ہے اور اس کے علاوہ سیمینار، میڈیا اور سول سوسائٹی سے سیمینارز، عوامی سنجیدگی اور تحقیقی کاغذات کے ذریعے دانشورانہ انضمام کی تلاش کرے گی. انہوں نے کہا کہ کمیٹی خارجہ آفس کے ادارے کو مضبوط کرے گی۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ غیر ملکی پالیسی میں حکومت کا احتساب مکمل طور پر جانچ پڑتال اور شفافیت کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی کو از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان کے عالمی نقطہ نظر کو خاص طور پر قائداعظم کی تعلیمات کی عکاس کریں جنہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کو ’بغیر امن اور امن‘کی عکاس کرنا چاہیی. انہوں نے جنوری 1948 میں امریکی لائف میگزین کو اپنے انٹرویو میں قائداعظم کے مشہور خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’پاکستان فرنٹیئر‘ پر رکھ دیا گیا ہے جہاں دنیا کی مستقبل کی سیاست پر قابو پانے والا ہے۔