صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کی صائمہ جروار کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت

جمعہ مئی 20:58

صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کی صائمہ جروار کے اہل خانہ سے ..
لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے لاڑکانہ پہنچ کر 10 روز قبل اغوا کے بعد زیادتی کی کوشش کے دوران ناکامی پر گلہ دبا کر قتل ہونے والی 9 سالہ بچی صائمہ لواحقین سے تعزیت کی۔ اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ صائمہ قتل کیس میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا کچھ لوگ اس واقعے کو زینب کے واقعے سے ملا رہے ہیں اس کیس میں سی سی ٹی فوٹیج اور ڈی این اے ٹیسٹ کے باعث ملزم گرفتار ہوا جبکہ صائمہ کا کیس بلائیڈ کیس تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا ہے میں ان سے اپیل کرتا ہوں کے ایسے مقدمات جلد سے جلد حل کیے جائیں تاکہ ملزمان کو سزا ملے اور مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی لاڑکانہ اور ٹیم مبارک کے مستحق ہیں، آئی جی سندھ سے پولیس روارڈ کے حوالے سے بات کروں گا، سی ایم سندھ سے ورثا کی امداد کے لیے بھی بات کرونگا۔

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ و دیگر بڑے شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام بہتر بنانے کے اقدامات لوں گا، جب میں پہلے وزیر داخلہ تھا تب پی سی ون تیار کروائی تھی، آئی ٹی منسٹر سے بات کرونگا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی پی سی کا کیا ہوا، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شکایت ملنے پر فوری ایکشن لیتا ہوں، اس دوران جروار برادری کے معزز سردار خان جروار نے پولیس کی بہتر کارکردگی پر اپنی جانب سے پانچ لاکھ کا چیک انعام دیا جو کہ وزیر داخلہ اور سردار خان جروار نے ایس ایس پی لاڑکانہ کے حوالے کیا۔