پاکستان اور ترکی کے انتہائی قریبی اور گرم جوش تعلقات خطے میں استحکام اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہیں،ممنون حسین

عالمی بحرانوں کے حل میں ترکی کا کردار مثبت ،مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے منصفانہ موقف کی تائید پر ترک بھائیوں کے شکر گزار ہیں رجب طیب اردوان عالم اسلام کے جراتمند لیڈر ،مسلم امہ کودرپیش چیلنجوں ،مسائل پر درست ،منصفانہ موقف اختیار کرتے ہیں جن سے مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے،صدر مملکت کی سے ترک مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ہلوسی آکار سے گفتگو

جمعہ مئی 21:47

پاکستان اور ترکی کے انتہائی قریبی اور گرم جوش تعلقات خطے میں استحکام ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے انتہائی قریبی اور گرم جوش تعلقات خطے میں استحکام اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہیں۔عالمی بحرانوں کے حل میں ترکی کا کردار انتہائی مثبت ہے،،مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے منصفانہ موقف کی تائید پر ترک بھائیوں کے شکر گزار ہیں،رجب طیب اردوآن عالم اسلام کے جراتمند لیڈر ہیں جو مسلم امہ کودرپیش چیلنجوں ،مسائل پر انتہائی درست اور منصفانہ موقف اختیار کرتے ہیں جن سے مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو ترک مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ہلوسی آکار سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،جنھوں نے ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔اس موقع پر ترک سفیر احساں مصطفی یوردا کول کے علاوہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات انتہائی گہرے اور غیر معمولی ہیں جنھیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بحرانوں کے حل کے سلسلے میں ترکی کا کردار انتہائی مثبت ہے۔ اس نے مشرق و سطیٰ کے بحران اور خاص طور پر مہاجرین کے مسئلے کو انتہائی خوش اسلوبی کیساتھ نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ ترکی نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے منصفانہ موقف کی تائید کی ہے جس پر ہم ترک بھائیوں کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شمالی قبرس کے معاملے میں ترکی کا موقف منصفانہ ہے جس پر پاکستان اس کی غیر مشروط تائید کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اوردونوں ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ صدر مملکت نے ترک رجب طیب اردوآن کی جرات مندانہ قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالم اسلام کے جرات مند لیڈر ہیں جو مسلم امہ کودرپیش چیلنجوں اور مسائل پر انتہائی درست اور منصفانہ موقف اختیار کرتے ہیں جن سے مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے۔

انھوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع سمیت ترقی کے مختلف شعبوں میں انتہائی قریبی تعلقات ہیں جن میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا۔ انھوں نے معزز مہمان سے کہا کہ وہ ان کی نیک خواہشات ترکی کے صدر برادر رجب طیب ایردوآن تک پہنچا دیں۔ ترک مسلم افواج کے سربراہ جنرل جنرل ہلو سی آکارنے پر جوش مہمان نوازی پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل مرحلے پر ترکی کا ساتھ دیا جس پرترک قوم پاکستانی عوام کی شکر گزار ہے۔