اسلامی تعلیمات میں باہمی سماجی تعلقات کے فروغ کی تاکید کی گئی ہے ، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

جمعہ مئی 21:14

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ حکم قرآنی ہے کہ کسی انسان کی آنکھ کے اشارہ سے بھی توہین نہ کی جائے ۔ اس کا نام بگاڑا جائے اور نہ ہی عیب جوئی کی جائے ۔ جبکہ کسی شخص کو پست کرنے، چغل خوری اور باہمی تفرقہ پیدا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔اسلامی تعلیمات میں باہمی سماجی تعلقات او روابط کے فروغ پر بہت زور دیا گیا ہے۔

کوئی مریض ہو تو اس کی عیادت کرنے کی تاکید ہے ، کوئی حج و زیارات کیلئے جا ر ہا ہو تو اسے ملنے اور دعا کرنے کیلئے کہنا چاہیے۔ اسی طرح کوئی مقدس زیارات یا کسی اور سفر سے واپس آئے تب بھی اس سے ملاقات کیلئے جانا چاہیے۔ذلیل ترین آدمی وہ ہے جو کسی کی توہین کرے۔

(جاری ہے)

جس طرح دوسرے کی توہین جائز نہیں اسی طرح آدمی خود بھی ایسا کوئی کام نہ کرے جو توہین کا موجب ہو ۔

جامع علی مسجد جامعة المنتظرماڈل ٹائون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوںن ے کہا کہ سورہ الھمزةمیں بعض عیوب و خامیوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اس آگ سے ڈرایاگیا ہے جو فقط ظاہری طور پر ہی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں تک جلا دے گی اور گناہگار کو آگ کے ستون گھیر لیںگے۔حدیث مبارکہ میں ہے کہ اگر کوئی بغیر کسی طمع اور لالچ کے کسی سے ملنے جائے تو 70 فرشتے اس کے ساتھ جائیں گے اور زندگی بھر اس کیلئے دعا کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ قرآن میں یہ بھی واضح حکم ہے کہ جب کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر جائو تو اجازت کے بغیر کھا پی سکتے ہیں تاکہ قربت اور بے تکلفی کا ماحول پیدا ہوالبتہ گھر داخل ہونے کیلئے اجازت اور پردہ وغیر ہ کے آداب کا خیال رکھنا لازم ہے ۔سورہ الھمزة میں تفرقہ سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔رسول اکرم کی حدیث ہے کہ کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے خبردوں پھر وضاحت فرمائی جو لوگ غیبت ، چغل خوری اور کسی پر تہمت، غلط الزام لگانے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ذلیل ترین آدمی وہ ہے جو کسی کی توہین کرے۔ جس طرح دوسرے کی توہین جائز نہیں اسی طرح آدمی خود بھی ایسا کوئی کام نہ کرے جو توہین کا موجب ہو ۔

متعلقہ عنوان :