لاہور، شالیمار لنک روڈ پر تجاوزات کی بھر مار نے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن کر دی

جمعہ مئی 21:14

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) لاہور میں تجاوزات کی بھرمار ہے اِس کی بنیادی وجہ قانون کی بالادستی کا نہ ہونا اور مقامی انتظامیہ کا رشوت خور عملہ ہے ۔ مغلپورہ چوک میں ٹریفک وارڈن کو ڈھونڈنے کے لیے کسی جادوئی عینک کی ضروت ہے۔ اِسی چوک پر موٹر سائیکل رکشا والے اِس طرح دندناتے پھرتے ہیں جیسے کہ جنگل کا قانون ہو۔مغلپورہ چوک سے رام گڑھ سٹاپ تک فٹ پاتھ سمیت کوئی راسے پیدل چلنے والوں کے لیے میسر نہیں ہے۔

دکانیں ہیں کہ سڑک کے اوپر تک پھیلادی جاتی ہیں۔شالیمار لنک روڈ میں تجاوزات کی بھرمار نے پیدل چلنا مشکل کر دیا ہے۔ اِس روڈ پر واحد ہسپتال شالیمار ہے جس سے ملحقہ شالیمار میڈیکل کالج بھی ہے۔ ایمرجنسی کے لیے اِس روڈ پر سے گزرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سڑکوں پر مختلف قسم کی چیزوں کے اسٹال، فٹ پاتھ تو نظر ہی نہیں آتے۔ حالانکہ شالیمار باغ قریب ہونے کی وجہ سے اِس سڑک کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے اور اِس سٹرک کو بھی وی وی آئی پی کا درجہ کاغذوں میں حاصل ہے۔

ٹی ایم اے کے عملے کی ملی بھگت سے بے شمار عارضی دکانیں سجی ہوئی ہیں حتی کہ سڑک پر ہونے والی ناجائز تجاوزات پہ بننے والی دکانوں نے بجلی کے میٹر لگا رکھے ہیں۔مغلپورہ نہر کے پل سے جیسے ہی شالیمار لنک روڈ پر آئیں تو انتہائی بے ہنگم قسم کا ہجوم چنگ چی رکشوں کی بھرمار،،ٹریفک جائے بھاڑ میں۔ چنگ چی رکشے والے حادثات کا موجب بن رہے ہیں۔ساتھ ہی ریڑھیاں لگی ہیں اور ٹائر کو پنکچر لگانے والوں نے مغلپورہ چوک سے گزرنا اذیت ناک بنا دیا ہے۔

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے وارڈن یہاں صرف استراحت فرمانے کے لیے آتے ہیں۔ مجال ہے کہ ٹریفک کو کنٹرول کریں۔ ساتھ ہی مغلپورہ تھانہ ہے۔ تھانے سے لے کر شالامار آنے تک اگر فٹ پاتھ نظر آجائے تواُس کی تصویر کشی کر لینی چاہیے۔ رام گڑھ سٹاپ،چار نمبر گلی سٹاپ پہ تو تل رکھنے کی جگی نہیں دکانداروں کی جانب سے فٹ پاتھ سے آگے تلک سڑک پر قبضہ۔

ساتھ ہی قبرستان کیساتھ سڑک پر پھول بیچنے والوں کا تاحیات مکمل قبضہ حتی کے سڑک پر ہی ڈیپ فریزرز رکھے ہیں۔جن میں اُنھوں نے قبروں پہ ڈالنے والے ہار رکھے ہیں اور چوری کی بجلی سے مردوں کو ثواب پہنچارہے ہیں اور جو زندہ ہیں اُن کو گزرنے تک کا راستہ نہیں دے رہے۔ تو جناب قبرستان اور درس سٹاپ کی حالت بھی بہت پتلی ہے۔درس سٹاپ سے پیدل گزرنا ناممکن ہے۔

مچھلی والے، کباب اور پھل بیچنے والوں نے درس سٹاپ سڑک کے اوپر ایسے قبضہ کیا ہوا ہے جیسے یہ سڑک اُن کا وراثتی حصہ ہے۔ خواتین اور بچوں کا تو یہاں ں سے گزرنا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔درس سٹاپ سے شالیمار ہسپتال تک فٹ پاتھ بمعہ سڑک تجاوزات کی نظر ہے اور یوں ہسپتال پہنچے تک انتہائی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ڈی سی لاہور کو ای میل کی وساطت سے متعدد مرتبہ پیغامات دیئے ہیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی فیس بک پر کمپلینٹ کی ہے لیکن الیکٹرنک میڈیا پہ شہری مشکلات کا ازالے کرنے کے دعوے دار بھنگ پی کر سو رہے ہیں۔

شالامارہسپتا ل سے لے کر شالیمار باغ کا بھی یہی حال ہے۔اگر ہرکام خادم اعلیٰ نے ہی کرنا ہے تو بند کریں پھر سارئے محکمے۔ اتنی لمبی چوڑی ملازموں کی فوج کیوں رکھی ہے۔ اِس علاقے میں آبادی کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے شہری حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔آبادی کا دبائو تو واقعی بہت زیادہ ہے لیکن اِصل وجہ قوانین پر عمل درآمد کروانے والوں کی سُستی ہے۔ اگر ٹریفک کے قوانین کی عملداری یقینی بنائی جائے اور ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ہوجائے اور وی وی آئی پی موومنٹ سے قوم کی جان چھوٹ جائے تو یقینی طور پر اِس شہر میں ڈھنگ سے جیا جا سکتا ہے۔