اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو پی سی بی واپس کردے گا، نجم سیٹھی

کی عدالت عظمی کو یقین دھانی ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے،اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ لینے میں مدد کریں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس

جمعہ مئی 22:54

اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو پی سی بی واپس کردے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے عدالت عظمی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو پی سی بی واپس کردے گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے،اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ لینے میں مدد کریں گے۔

جمعہ کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اسلام آباد کے علاقے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے معاملے پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی پیش ہوئے اور عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں شروع ہوا تھا اور جب میں چیئرمین پی سی بی بنا تو کہا گیا کہ اس سائٹ پر اسٹیڈیم تعمیر نہیں ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

نجم سیٹھی نے کہا کہ سی ڈی اے کی ذمے داری تھی کہ وہ ہمیں نیشنل پارک میں جگہ ہی نہ دیتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو پی سی بی واپس کردے گی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سی ڈی اے ثابت کرے کہ اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں' نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ 'ہم نیشنل پارک میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن ہمیں اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں گہری دلچسپی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے، ہم آپ کو اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ لینے میں مدد کریں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ نیشنل پارک میں متاثرہ سائٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرائیں گے۔جس پر نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی ماحول دوستی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے، ہم فاضل عدالت اور ماحولیاتی ایجنسی کے ساتھ ہیں، کہیں اور جگہ زمین مل گئی تو 3، 4 سال میں اسٹیڈیم بن جائے گا۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ اگر آپ نے کام کرنا ہے تو ملک میں آرٹ اور کلچر کو فروغ دیں، لیکن یہ نہ ہو کہ آرٹ و کلچر کے نام پر مچھلی اور پکوانوں کی دکانیں بنا کر ماحول خراب کرتے رہیں۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کے گرد اتنی دکانیں بن گئی ہیں کہ ان کا دھواں بھی اسٹیڈیم میں آتا ہے، لیکن پی سی بی کے کچھ ملازمین کی شاید وہاں سے روزی روٹی لگی ہے۔

سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے اسٹیڈیم کی تعمیر روکنے سے متعلق حکم برقرار رکھا اور تجاویز طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔ یاد رہئے سابق بیورو کریٹ روئیداد خان نے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مو قف اپنایا تھا کہ حکومت شکرپڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم اور فائیو اسٹار ہوٹل بناناچاہتی ہے جس سے آلودگی میں اضافہ ہوگا۔ سپریم کورٹ نے رواں ہفتے 2 مئی کو اسلام آباد کے علاقے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر روکتے ہوئے درخت کاٹنے پر پابندی لگادی تھی۔