پختونوں کا اتفاق واتحاد وقت کی ضرورت ہے ،ْ اسفند یار ولی

بھٹو دور حکومت میں پختونوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے پر باچا خان ،ولی خان اور وہ خودبیک وقت جیل میں تھے ،ْعمران خان نے تبدیلی کے نام پر ناچ گانے اور گالی گلوچ کی سیاست پر وان چڑھائی ہے ،ْ اے این پی دور حکومت کے منصوبوں پر لوگ سیاست چمکا نے سے گریز کریں ،ْجلسے سے خطاب

جمعہ مئی 23:29

پختونوں کا اتفاق واتحاد وقت کی ضرورت ہے ،ْ اسفند یار ولی
چار سدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پختونوں کا اتفاق واتحاد وقت کی ضرورت ہے ،ْ اے این پی نے دھرتی ماں اور پختونوں کے حقوق کیلئے لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے ۔ بھٹو دور حکومت میں پختونوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے پر باچا خان ،ولی خان اور وہ خودبیک وقت جیل میں تھے ۔

عمران خان نے تبدیلی کے نام پر ناچ گانے اور گالی گلوچ کی سیاست پر وان چڑھائی ہے ۔ اے این پی دور حکومت کے منصوبوں پر لوگ سیاست چمکا نے سے گریز کریں ۔ وہ ولی باغ چارسدہ میں قومی وطن پارٹی یونین کونسل درگئی کے ڈسٹرکٹ ممبر سجاد علی خٹک کے خاندان سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبد اللہ ، تپہ درگئی کے صدر مراد علی خان ایڈوکیٹ ، جنرل سیکرٹری رفیق خٹک ، ضلعی کابینہ کے عہدیدار فاروق خان ، ناصر خان اور ضلعی ترجمان تحسین عبد اللہ بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

اسفندیار ولی خان نے عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ خلف بر قرآن تمام سیاسی قائدین ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو بتائیں کہ کس نے کتنی قومی دولت لوٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہر جگہ حلف بر قرآن اعلان کرتے ہیں کہ کسی نے ان کے خلاف یا خاندان کے کسی فرد کے خلاف ایک روپے کی کرپشن ثابت کی تو سیاست چھوڑ کرپھانسی کیلئے تیار ہوں ۔

اسفندیار ولی خان نے وزیر اعلی پرو یز خٹک پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ موصوف ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے بنی گالہ سے استعمال ہو رہے ہیں ۔ پرویز خٹک اے این پی دور حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں مگر وہ بھول گئے کہ موصوف خود ایء این پی حکومت میں پونے پانچ سال تک وزیر رہے ۔ صوبائی حکومت بھر پور کوشش کے باوجود اے این پی کے کسی رہنماء اور رکن پارلیمنٹ پر ایک دھیلے کا کرپشن ثابت نہ کر سکے ۔

انہوںنے کہا کہ عمران خان کے طرز سیاست نے ناچ گانے اور گالی گلوچ کو پروان چڑھایا ہے ۔ پہلے سیاست دان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر مثبت تنقید کرتے تھے اور گالی گلوچ کا تصور تک نہ تھا مگر آج عمران خان نے سیاست کے اقدار ختم کی ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے پختون قوم پر زور دیا کہ پنجاب ،،سندھ اور بلوچستان کے لوگوں نے اپنا سیاسی قبلے کا فیصلہ کیا ہے مگر پختون قوم آپس میں تقیسم ہے ۔

وقت آگیا ہے کہ پختون قوم اپنے حقوق کیلئے اے این پی کے جھنڈے تلے اکھٹے ہو جائیں ۔اسفندیار ولی خان نے کہاکہ پختونوں کے حقوق کیلئے باچا خان ، ولی خان اور وہ خود بیک وقت جیل میں تھے ۔ اے این پی نے پختونوں کے حقوق کیلئے پہلے بھی جدو جہد کی ہے اور آئندہ بھی جدو جہد جاری رکھی گی ۔ اے این پی نے اپنے دور حکومت میںپختونوں کے 70سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا اور پورے صوبے میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ۔ انہوںنے کہاکہ یونین کونسل درگئی اور دوسہرہ کیلئے انہوںنے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے فنڈ منظور کرایا تھا اور انشاء اللہ دوسہرہ یونین کونسل کی طرح درگئی یونین کونسل کے عوام بھی بہت جلد سوئی گیس کی نعمت سے مستفید ہونگے ۔