سپریم کورٹ نے شکر پڑیا ں میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لئے پی سی بی کو اراضی کی غیر قانونی لیز کے مقدمہ میں سی ڈی اے سے جواب طلب کرلیا

جمعہ مئی 23:14

سپریم کورٹ نے شکر پڑیا ں میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لئے پی سی بی کو ..
اسلام آباد۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے شکر پڑیا ں میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لئے سی ڈی اے کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اراضی کی غیر قانونی لیز کے حوالے سے مقدمہ میں سی ڈی اے سے آئندہ سماعت تک شکر پڑیا ں کے نیشنل پارک کا حصہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کو اس مسئلہ کے حل کے لئے تحریری تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جون کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کردی ہے۔

جمعہ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار اورجسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لئے سی ڈی اے کی جانب سے پی سی بی کو اراضی کی غیر قانونی لیز کے خلاف روئیداد خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پرچیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے پیش ہوکر بتایا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں شروع ہوا تھا، میں اس وقت چیئرمین پی سی بین نہیں تھا ،یہ سی ڈی اے کی ذمے داری تھی کہ وہ ہمیں نیشنل پارک میں جگہ ہی نہ دیتے، تا ہم اب میں واضح کرتا ہوں کہ اگر ہمیں لیز پر دی گئی اراضی نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہو گئی تو ہم اراضی سی ڈی اے کو واپس کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیز پر لی گیی اراضی کی بائونڈی وال اور سائٹ آفس بنانے پر ہمارے کافی اخراجات ہو ئے ہیں، اس لیے اخراجات کی رقم سی ڈی اے سے واپس دلانے کا حکم جاری کیا جائے۔ جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے پہلے ثابت کرے کہ مجوزہ سٹیڈیم کی اراضی نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں' جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے کہا کہ یہ نیشنل پارک کا حصہ ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ہم نیشنل پارک میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ لیکن ہم وفاقی دارالحکومت میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں گہری دلچسپی رکھتے ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں، کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے، عدالت آپ کو اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ دینے کے لئے سی ڈی اے کو حکم جاری کرے گی کیونکہ کھیلوں کے بغیر تو قومیں پاگل ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارک میں متاثرہ سائٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرائیں گے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی ماحول دوستی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے، اس سلسلے میں ہم عدالت اور ماحولیاتی ایجنسی کے ساتھ ہیں، کہیں اور جگہ مل گئی تو 3، 4 سال میں اسٹیڈیم بن جائے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ اگر آپ نے کام کرنا ہے تو ملک میں آرٹ اور کلچر کو فروغ دیں لیکن یہ نہ ہو کہ آرٹ و کلچر کے نام پر مچھلی اور پکوانوں کی دکانیں بنا کر ماحول خراب کردیں۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کے گرد اتنی دکانیں بن گئی ہیں کہ ان کا دھواں بھی سٹیڈیم میں آجاتا ہے۔ لیکن پی سی بی کے کچھ ملازمین کی شاید وہاں پر روزی روٹی لگین ہو ئی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے نیشنل پارک کی جگہ پر تعمیرات کے خلاف جاری حکم امتناع کو برقرار رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جون کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کردی۔