سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ نے سیمنٹ پر 50پیسے فی کلو ٹیکس ڈیوٹی بڑھانے کی منظوری دیدی

ڈیوٹی 1روپیہ تھی ، اب اسی1.50روپے کر دیا ، سگریٹ بنانے والے پیپر اور سگریٹ کو مزید مہنگا کرنے کی سفارش ، تمباکو پر عائد ٹیکس ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی سفارش منظور بلوچستانس ے تعلق رکھنے و الے سینیٹر بابر احمد کی فنانس ڈویژن کی جانب سے گوادر کے لئے 2004میں 25ارب کے وعدے کے باوجود تاحال ادائیگیاں نہ کرنے پر کمیٹی سے واک اؤٹ کمیٹی نے پلاننگ اور فنانس ڈویژن کے روپے پر شدید برہمی کا اظہار چند غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر مارکیٹ سے کم ویلیو ظاہر کرنے پر غیر منقولہ جائیداد حکومت کو خریدنے کا اختیار دینے کی سکیم بھی مسترد ایف بی آر کو فنانس بل سے مذکورہ سکیم کو نکالنے کی ہدایت جاری کر دیں ، گوگل یو ٹیوب پر بھی ایف بی آر کی جانبسے ٹیکس لگانے کی سکیم بھی نامنظور

جمعہ مئی 23:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ملک میں سیمنٹ مزید مہنگا ہو جائیگا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سیمنٹ پر 50پیسے فی کلو ٹیکس ڈیوٹی بڑھانے کی منظوری دیدی ہے یہ ڈیوٹی 1روپیہ تھی جبکہ اب اسی1.50روپے کر دیا گیا ہے جبکہ سگریٹ بنانے والے پیپر اور سگریٹ کو مزید مہنگا کرنے کی سفارش جبکہ تمباکو پر عائد ٹیکس ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی سفارش منظور ، بلوچستانس ے تعلق رکھنیو الے سینیٹر بابر احمد کی فنانس ڈویژن کی جانب سے گوادر کے لئے 2004میں 25ارب کے وعدے کے باوجود تاحال ادائیگیاں نہ کرنے پر کمیٹی سے واک اؤٹ کمیٹی نے پلاننگ اور فنانس ڈویژن کے روپے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چند غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر مارکیٹ سے کم ویلیو ظاہر کرنے پر غیر منقولہ جائیداد حکومت کو خریدنے کا اختیار دینے کی سکیم کو کمیٹی نے مسترد کر دیا۔

(جاری ہے)

ایف بی آر کو فنانس بل سے مذکورہ سکیم کو نکالنے کی ہدایت جاری کر دیں جبکہ گوگل یو ٹیوب پر بھی ایف بی آر کی جانبسے ٹیکس لگانے کی سکیم مسترد کر دی گئی جمعہ کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئر مین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں فنانس بل 2018ء اور رواں مالی سال کے دوران نئے ٹیکسوں اور محصولات کا جائزہ لیا گیا ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمباکو کی کیٹگری ون کی کاشت پر کسان سے فی کلو 38روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ جبکہ مارکیٹ میں سختی کی وجہ سے کسانوں کا کیٹگری ٹو اور تھری کا تمباکو کوئی خریدنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ گادر کے حوالے سے انکشاف ہوا کہ رواں سال کے پی ایس ڈی پی میں گوادر کے پانی کے لئے کوئی خاص منصوبہ نہیں رکھا گیا اور 2004میں حکومت نے گوادر کو 25ارب روپے 5سال میں دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے 14سال گزرنے کے باوجود ابھی تک صرف10ارب روپے ملے ہیں اور وہ بھی گوادر کی سڑکوں پر خرچ کئے گئے ہیں تاکہ وہاں کی زمین پر قبضہ کیا جا سکے۔

جبکہ مقامی لوگوں کے پانی کے کسی بھی منصوبے پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے معاملے کی روپرٹ طلب کرتے ہوئے سوموار تک کے لئے اپنی سفارشات محفوظ کر لی ہیں۔ سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر مصدق ملک نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سی پیک جیسا بڑا منصوبہ گوادر میں شروع کیا جا رہا ہے لیکن گوادر کی بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

اگر فنانس اور پلاننگ ڈویژن اپنا کام نہیں کر سکتے تو ہمیں بتائیں ہم ان کی جگہ ان کا کام کریںگے۔ کمیٹی نے ملک میں جاری میگا منصوبے بالخصوص اورنج لائن منصوبے کے لئے بیرون ملک سے منگوائی جانے والے ڈیوٹی فری مٹیریل کی تفصیلات اور منصوبہ مکمل ہونے پر آرڈر رپورٹ طلب کر لی تاکہ معلوم ہو سکے کہ باہر سے منگوائے جانیو الا ڈیوٹی فری مٹیریل صرف منصوبے پر ہی خرچ ہوا ہے یا اس میں کہیں کرپشن کی بھی کی گئی ہے۔

سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ ان میگا منصوبوں کی آڑ میں جو چیزیں منگوائی جاتی ہیں کچھ تو ان منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہیں اور باقی بزنس میں لگا دی جاتی ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے تجویز پیش کی کہ تھر میں کوئلے پر کام کرنے والے ٹرکوں اور ڈمپرز سے کوئی ڈیوٹی نہیں لی جاتی۔ لہذا بلوچستان میں بھی مائننگ پر کام کرنے والے ڈمپر اور ٹرکوں کو ڈیوٹی فری بنا دیا جائے جس پر ایف بی آر حکام نے کہا کہ اگر ان ٹرکوں اور ڈمپر کو ڈیوٹی فری کیا گیا تو اس میں مسائل پیدا ہوں گے۔

کمیٹی نے ضلع موسیٰ خیل ، قمر دین اور بادینی میں نیشنل بینک کے قیام کی سفارش کی بھی منظوری دے دی۔ جبکہ وزیراعظم انٹرنشپ پروگرام کی رقم 12ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 20ہزار روپے کرنے کی سفارش کو بھی منظور کر لیا۔ جبکہ فائبر کی امپورٹ پر ڈیوٹی 20فیصد سے کم کر کے 11فیصد کرنے کی بھی سفارش منظور کر لی ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے یوٹیوب ، یاہو، گوگل پر 5فیصد ڈیوٹی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش مسترد کر دی کیونکہ ایف بی آر حکام کمیٹی کو یو ٹیوب ، گوگل اور یاہو سے حاصل ہونے والے ٹیکس کا ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے اور ایف بی آر حکام آن لائن سروسز کے بارے میں کسی قسم کی بھی تفصیلات فراہم نہ کر سکے۔

جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کو ہی پاکستان کی فلاحی تنظیموں میں شامل کرنے کی تجویز پر بھی غور شروع کر دیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ سوموار کو الخدمت فاؤنڈیشن کو فلاحی تنظیموں میں شامل کرنے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔ ایف بی آر حکام نے اعتراف کیا کہ ملک میں ہر سال اربوں روپے مختلف ناموں سے بیرون ملک منتقل کیے جاتے ہیں جس کو روکنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے نئے قوانین بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ایف بی آر ممبر ڈاکٹر اقبال نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر کوئی بھی کمپنی بیرون ملک میں کام کر رہی ہو اور اس کا زیادہ تر ریونیو پاکستان سے جنریٹ ہو رہا ہو اور وہ کمپنی اپنے شیئرز باہر کے کسی ممالک میں فروخت کرے تو اس کے اوپر بھی ٹیکس عائد ہو گا۔ لیکن کمیٹی نے اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔ اور کہا کہ اب کسی بھی کمپنی سے ڈبل ٹیکسیشن حاصل نہیں کر سکتے۔۔