ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

جمعہ مئی 23:53

اسلام آباد۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں اراکین سینیٹ کی طرف سے فنانس بل 2018 کے حوالے سے تجویز کردہ سفارشات کا جائزہ لینے کے علاوہ ایف بی آر کی طرف سے فنانس بل 2018 میں فیڈرل ایکسائز اور انکم ٹیکس آرڈنینس 2001 میں تجاویز کر دہ سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر عثمان خان کاکٹر کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے صوبہ بلوچستان کے لیے کرومائیٹ اور کوئلہ کیلئے ڈمپر اور ٹرکوں کی سیلز ٹیکس پر چھوٹ دینے کی سفارش کو منظور کر لیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے بلوچستان کے اضلاع ژوب ،قمر الدین کاریز میں کسٹم ہاؤس اور قلعہ سیف اللہ اور بادینی میں نیشل بنک کی برانچ کھولنے کی سفارش کو منظور کر لیا۔

(جاری ہے)

قائمہ کمیٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے انٹرنز کی ماہانہ تنخواہ کم ازکم20 ہزار کرنے کی تجویز کو بھی منظور کیا۔ بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل ، دکی اور شیرانی میں کیڈٹ کالج کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ 8 ہزار سے بڑھا کر 16 ہزار کرنے کی بھی منظور ی دے دی۔ قائمہ کمیٹی نے فیڈرل ایکسائز ٹیکسیشن کے حوالے سے ایف بی آر کی تجویز کر دہ سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعد د ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔

اجلاس میں سینیٹرز عائشہ رضافاروق ، دلاور خان ، محمد طلحہ محمود ، خانزادہ خان ، محسن عزیز ، میاں محمد عتیق شیخ ، مصدق مسعود ملک ،اورنگزیب خان اور انوارالحق کاکٹر کے علاوہ سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود،چیئرمین ایف بی آر، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے حکام نے شرکت کی۔