انصاف کی فراہمی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، آئین کے آرٹیکل سینتیس میں شہریوں کو انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے‘ انصاف کی تاخیر اور مقدمات کی بھرمار پر تشویش ہے، بطور چیف جسٹس فوری اور سستے انصاف کی کوششیں کر رہا ہوں

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا جوڈیشل کانفرنس سے خطاب

جمعہ مئی 23:50

اسلام آباد۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، آئین کے آرٹیکل سینتیس میں شہریوں کو انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے‘ انصاف کی تاخیر اور مقدمات کی بھرمار پر تشویش ہے، بطور چیف جسٹس فوری اور سستے انصاف کی کوششیں کر رہا ہوں،عدالتی اصلاحات میری ترجیح ہیں ،قوم کی خوشحالی میں انصاف کی فراہمی کا بڑا کردار ہے ، یہ معاشی ترقی کے فوائد سے مستفید ہونے میں معاونت کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان سماجی و اقتصادی ترقی کا منصوبہ ہے، اس سے استفادے کیلئے تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ جمعہ کو یہاں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سی پیک سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی، اس سے متعلق آئینی معاملات کو مدنظر رکھنا ہوگا،،سی پیک کی صورت میں پاکستان معاشی سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے،بطور قوم سی پیک کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے،کانفرنس کا مقصد سی پیک کے راستے میں بظاہر نظر نہ آنے والے مسائل پر بات کرنا ہے،کانفرنس سے سی پیک کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی،شہریوں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا،ملک کا سیاسی اور اقتصادی استحکام کرمنل جسٹس سسٹم میں مضمر ہے ملک میں کرمنل کورٹس اور تحقیقاتی اداروں کی تشکیل نو ضروری ہے ،پہلے سے موجود پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا،تمام شراکت دار اور ماہرین ملکی نظام میں اصلاحات کے خواہاں ہیں ،،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کانفرنس مسائل کے بہتر حل کے لئے ایک پلیٹ فام مہیا کر رہی ہے،جب تک ہم انصاف کی فراہمی میں اصلاحات نہیں لاتے تب تک قائد کان خواب پورا نہیں ہو سکتا،آئین پاکستان شہریوں کے بہتر معیار زندگی کا ضامن ہے ، نہ صرف زندہ رہنے کا حق بلکہ بیشتر معیار زندگی شہریوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہے،یہ یقینی بنانا ہے کہ مناسب قانونی معلومات شہریوں کیلئے دستیاب ہو۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد زیر التوا مقدمات اور وجوہات پر روشی ڈالنا ہے، عدلیہ نے بھی ملک کو چیلنجز سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو انصاف کی جلد فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق ملکی معاشی بہتری کیلیے تمام اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا، سرمایہ کاری کے لیے جان، مال اور کاروبار کے تحفظ کی فراہمی ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ، سائبر کرائم مقدمات کے حل کیلیے جدید عدالتی نظام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ یکساں انصاف کے بغیر عام آدمی تک معاشی فائدے نہیں پہنچ پاتے، مساوی حقوق کی بنیاد پر ہی معاشرے کی ترقی کی راہ کا تعین ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے تمام اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم جیسے مقدمات کے حل کیلئے جدید عدالتی نظام ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشنل کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے جو لیگل چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معاون کردار ادا کرتی ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظام انصاف قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں بہتری جرائم میں کمی سے مشروط ہے، امید ہے کہ شرکا ملک میں پائیدار ترقی کیلئے موثر اقدامات اور حکمت عملی تجویز کریں گے، جوڈیشنل کانفرنس مستحکم اور پائیدار نظام کی طرف عدلیہ کی اولین کوشش ہے، جوڈیشل کانفرنس مستقبل کے چیلنجز سے خود اعتمادی کے ساتھ نمٹنے میں مددگار ثابت ہو گی۔جوڈیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ چائنہ نے پاکستان میں سی پیک جسیا اہم منصوبہ شروع کیا۔