جمہوریت آکسیجن ٹینٹ میں کبھی مضبوط نہیں ہو گی،اس ملک میں یہ ذہنی تشدد بھی ہو رہا ہے کہ بولنے کی اجازت چوائس کے ذریعے دی جا رہی ہے، آزادی صحافت کوئی چوائس نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اختلاف رائے کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے،اس وقت پاکستان کی تاریخ کی بھیانک سنسر شپ ہو رہی ہے، جمہوری آوازوں کو گونگا کیا جا رہا ہے، صحافیوں کے آرٹیکل نہیں چھپ رہے، سول سوسائٹی کی آواز بند کی جا رہی ہیملک کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم کی آواز بھی Mute (خاموش) کر دی جاتی ہے،

حکومت اپاہج اور مفلوج ہو کر نہیں چلائی جا سکتی،ہم کب تک ڈر ، خوف اور بے بسی سے استعفٰی دیتے رہیں گے، کب تک منتخب وزیراعظم گھر جاتے رہیں گے ، کل صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتی ہوں۔واقعے کی ابتدائی رپورٹ ایوان میں پیش کی ہے،مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی اور ذمہ دارروں کا تعین کیا جائے گا وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب کا صحافیوں سے بدسلوکی کے معاملے پرایوان بالامیں بیان

ہفتہ مئی 00:20

اسلام آباد۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات،، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہجمہوریت آکسیجن ٹینٹ میں کبھی مضبوط نہیں ہو گی،اس ملک میں یہ ذہنی تشدد بھی ہو رہا ہے کہ بولنے کی اجازت چوائس کے ذریعے دی جا رہی ہے، آزادی صحافت کوئی چوائس نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اختلاف رائے کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے،اس وقت پاکستان کی تاریخ کی بھیانک سنسر شپ ہو رہی ہے، جمہوری آوازوں کو گونگا کیا جا رہا ہے، صحافیوں کے آرٹیکل نہیں چھپ رہے، سول سوسائٹی کی آواز بند کی جا رہی ہیملک کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم کی آواز بھی Mute (خاموش) کر دی جاتی ہے،حکومت اپاہج اور مفلوج ہو کر نہیں چلائی جا سکتی،ہم کب تک ڈر ، خوف اور بے بسی سے استعفٰی دیتے رہیں گے، کب تک منتخب وزیراعظم گھر جاتے رہیں گے ، کل صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتی ہوں۔

(جاری ہے)

واقعے کی ابتدائی رپورٹ ایوان میں پیش کی ہے،مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی اور ذمہ دارروں کا تعین کیا جائے گا۔ وہ صحافیوں سے بدسلوکی کے معاملے پر جمعہ کو ایوان بالا میں بیان دے رہی تھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کل صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتی ہوں۔واقعے کی ابتدائی رپورٹ ایوان میں پیش کی ہے، مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی اور ذمہ دارروں کا تعین کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی تاریخ کی بھیانک سنسر شپ ہو رہی ہے، جمہوری آوازوں کو گونگا کیا جا رہا ہے، صحافیوں کے آرٹیکل نہیں چھپ رہے، سول سوسائٹی کی آواز بند کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم کی آواز بھی Mute (خاموش) کر دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تواخبارات سفید چھپتے تھے، چالیس سال کے عرصے کے بعد یہ فرق آیاکہ اخبارات گونگے چھپ رہے ہیں اور ٹی وی چینلوں کی آواز کو گونگا کیا جا رہے ہے۔

اس ملک میں یہ ذہنی تشدد بھی ہو رہا ہے کہ بولنے کی اجازت چوائس کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ آزادی صحافت کوئی چوائس نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔اختلاف رائے کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے، اپنی مرضی کے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جا رہے ہیں، بطور وزیر اطلاعات میں شرمندہ ہوں ، بارہا استفی دینے کے بارے میں سوچا، لیکن کب تک ملک کے منتخب وزراء اعظم اور وزراء استعفٰے دیتے رہیں گے، حالات اتنے افسوسناک ہیں کہ اس ایوان کے سابق رکن افراسیاب خٹک کی بھی زبان بندی کی گئی اور ان کا آرٹیکل چھپنے سے روک دیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اطلاعات اور ابلاغ کے شعبوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔۔پیمرا چیئرمین کی تعیناتی کے حوالے سے قائم کمیٹی سے میرا نام نکال دیا گیا اورکہا گیا کہ وزیر اطلاعات بیان دینے میں مصروف ہوں گی، اس لئے انہیں کمیٹی سے نکال دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت آکسیجن ٹینٹ میں کبھی مضبوط نہیں ہو گی ۔حکومت اپاہج اور مفلوج ہو کر نہیں چلائی جا سکتی، ہم کب تک ڈر ، خوف اور بے بسی سے استفٰے دیتے رہیں گے، کب تک منتخب وزیراعظم گھر جاتے رہیں گے ہم مل کر مقابلہ کیوں نہیں کر سکتے۔