کیا نواز شریف کی تقاریر کو سنسر کرنا درست ہے ؟

حامد میر نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دے کر نوازشریف کو کھری کھری سنا دیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 11:33

کیا نواز شریف کی تقاریر کو سنسر کرنا درست ہے ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ بات یہ ہے کہ نواز شریف جو کہہ رہے ہیں کہ ہماری تقاریر کو سنسر کیا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ زمانہ کب شروع ہوا؟ کیا یہ زمانہ اس وقت شروع ہوا جب جیو کو کیبل پر بند کیا گیا تھا؟یا یہ زمانہ 25 نومبر2017ء کو شروع ہو گیا تھا جب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب تھیں اور ان کے ایک حکم پرپاکستان کے تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو شٹ ڈاﺅن کر دیا گا تھا ، ابھی تو آپ صرف جیو کی بات کر رہے ہیں۔

لیکن کیا وہ 25 نومبر کو سب بھول گئے ہیں جب جیو سمیت تمام ٹی وی چینلز کی نشریات کو وفاقی حکومت کے حکم پر بند کر دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ تمام ٹی وی چینلز جب کسی کی تقریر کے دوران کوئی الفاظ میوٹ کرتے ہیں تو کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ عدالت کا حکم نہیں ہے؟ عدالت کا حکم ہے کہ ایک سیاسی جماعت جس کے ایک رہنما پاکستان سے باہر ہیں، ان کا بیان تو درکنار، ان کا نام بھی نشر نہیں کر سکتے ، پچھلے دنوں عدالت کی جانب سے پیمرا کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ نے مانیٹر کرنا ہے کہ عدلیہ کے خلاف کوئی توہین آمیز مواد نشر نہ ہو۔

(جاری ہے)

اور اس پر پیمرا کی جانب سے مایٹرنگ بھی کی جا رہی ہے اور نوٹسز بھی جاری کیے جا رہے ہیں ۔ اب یہ دیکھا جا رہا ہےکہ نواز شرف اور مریم نواز کی تقاریر کے دوران کوئی ایسی بات نہ چل جائے کہ اس چینل کے خلاف کوئی توہین عدالت کا مقدمہ چل جائے یا نوٹس آ جائے۔ اس چیز کو دیکھا جا رہا ہے۔ باقی ہمارے پروگرام لائیو نشر ہو رہے ہوتے ہیں اس دوران پروگرامز کی نشریات معطل کر کے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر دکھائی جاتی ہیں۔

تو اس میں سنسر شپ کہاں ہے؟ یہ کیسی سنسر شپ ہے؟ کہ نواز شریف خود کہہ رہے ہیں کہ سنسر شپ لگی ہوئی ہے اور ان کا یہ بیان ٹی وی چینلز پر نشر ہو رہا ہے۔ سنسر شپ وہ تھی جب جنرل ضیا ء الحق الحق کے دور میں اور جنرل مشرف کے دور میں میڈیا کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ جب صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ان کو کوڑے لگائے گئے۔ پھر مشرف کے دور میں مجھ سمیت کئی صحافیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

کئی ماہ تک ہماری شکل نظر نہیں آئی ۔ وہ تھی سنسر شپ، یہ تو کوئی سنسر شپ نہیں ہے کہ آپ صبح وشام جلسوں سے خطاب کر تے ہیں ، آپ کے خطاب ٹی وی چینلزپر نشر کیے جاتے ہیں ، اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں، پھر بھی آپ کہیں کہ سنسر شپ ہے تو یہ ایک بڑی عجیب سی بات ہے۔۔میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ایک جو غیر اعلانیہ پابندی ہے وہ کل بھی ایک حقیقت تھی اور آج بھی ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں: