امریکی فوج شام سے کبھی نہیں جائے گی، سربراہ فرانسیسی فوج کا اعلان

داعش کو شکست دینا اولین ترجیح،اس لیے امریکیوں کے ساتھ ہمارا شام میں رہنا ضروری ہے،انٹرویو

ہفتہ مئی 11:53

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) فرانسیسی فوج کے سربراہ فرانسوا لیوکوانٹا نے کہا ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ امریکی فوج داعش کا خاتمہ کرنے سے پہلے شام سے انخلا کرے گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ شام سے اپنی فوج کی واپسی کے اعلانات کر چکے ہیں۔امریکی ٹی وی کو انٹرویومیںانھوں نے مزید کہا کہ داعش کو شکست دینا میری اولین ترجیح ہے۔

اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ امریکیوں کے ساتھ ہمارا شام میں رہنا ضروری ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ داعش کو شکست دیئے بغیر امریکی ملک چھوڑیں گے۔ادھر دوسری جانب فرانسیسی فوج کے سربراہ نے اپنے ملک کی اسپیشل ٹاسک فورس کو شام میں تعینات رکھنے کا عندیہ ظاہر کیا، تاہم انھوں نے اس سلسلے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ہم اسپیشل ٹاسک فورس سمیت داعش کے خاتمے کے لئے ہر طریقہ بروئے کار لائیں گے۔

فرانس عمومی طور پر میدان جنگ میں اپنی ایلیٹ فورس کے استعمال سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کرتا۔اپریل کے اواخر ہی میں امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس نے انکشاف کیا تھا کہ پیرس نے شام میں اپنی اسپیشل ٹاسک فورس کی کمک بھیجی ہے۔امریکی حمایت یافتہ عرب کرد اتحاد پر مشتمل سیرئین ڈیموکریٹک فورس نے منگل کے روز شام کے مشرقی علاقوں میں داعش کے خلاف کارروائی کے آخری مرحلے کا اعلان کیا تھا۔فرانسیسی فوجی قیادت کی جانب پیش کردہ اندازوں کے مطابق داعش کے دو ہزار جنگجوں تنظیم کے آخری گڑھ میں مورچہ زن ہیں۔