یونانی جزیرے لیسبوس میں مہاجرین کے پرتشدد مظاہرے،پولیس کا لاٹھی چارج

مظاہرین کی پولیس کی گاڑی الٹنے کی کوشش،علاقے میں عام ہڑتال،حالات کشیدہ،پولیس کی اضافی نفری تعینات

ہفتہ مئی 11:53

ایتھنز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) یونانی جزیرے لیسبوس پر ہزاروں مہاجرین نے یورپی یونین کی مہاجرین کی بابت سخت پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا، جو پرتشدد رنگ بھی اختیار کر گیا۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کی وہ پالیسی ختم کی جائے، جس کے تحت ان افراد کو یونانی جزیرے پر ہی محدود کر دیا گیا ہے۔

یونان کے مظاہرین سے نمٹنے والی پولیس نے لیسبوس میں مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔ کچھ مقام پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یہ مظاہرین مہاجرین کے بحران کے تناظر میں مرتب کی جانے والی یورپی پالیسی کے خلاف باہر نکلے تھے۔ ان افراد کا کہنا تھاکہ یہ پالیسیاں ان کے آبائی ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا کہ مظاہرین نے پولیس کی ایک بس الٹنے کی کوشش کی، جب کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں کوئی ایک گھنٹے تک جاری رہیں، تاہم ان واقعات میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کس شخص کو حراست میں لیا گیا۔ تارکین وطن کی حامی تنظیموں کا کہنا تھا کہ سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد اور ان پر فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ان جزائر پر پھنسے تارکین وطن میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے جب کہ ان جزائر پر نئے تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے، جو مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔