جرمن دانشور اور فلسفی کارل مارکس کی 200ویں سالگرہ منائی گئی

مارکس اور اینگلز کے تیار کردہ کمیونسٹ منشور کا شمار دنیا کے اہم ترین اور انتہائی بااثر سیاسی مسودات میں ہوتا ہے،رپورٹ

ہفتہ مئی 11:53

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) جرمن دانشور اور فلسفی کارل مارکس کی 200ویں سالگرہ منائی گئی ۔ گزشتہ صدی میں شاید ہی کسی دوسرے مفکر کے خیالات نے دنیا کو اس قدر متاثر کیا ہو، جتنا کہ کارل مارکس کے نظریات نے۔۔جرمن ریڈیو کے مطابق کارل مارکس کے خیالات کی بظاہر گرمجوشی سے پذیرائی کی گئی اور بعد میں ان نظریات کی بنیاد پر چند ممالک میں حکومتوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔

یہی سوشلسٹ نظریات کی حامل حکومتیں بعد ازاں مطلق العنانیت کے راستے پر چل پڑیں اور مارکس کے تصورات کا مفہوم ہی تبدیل کر دیا۔۔جرمن فلسفی ہنس یوآخم کے مطابق مارکس اور اینگلز کے تیار کردہ کمیونسٹ منشور کا شمار دنیا کے اہم ترین اور انتہائی بااثر سیاسی مسودات میں ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے حصے میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی اٴْن حکومتوں کے زیر اثر تھی، جن کی اساس ظاہری طور پر مارکس کے بنیادی نظریات پر استوار کی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

ان حکومتوں کے قیام کے تناظر میں مارکس کے اپنے ہی ایک قول کو حقیقت کی تعبیر حاصل ہوئی۔ مارکس نے اپنی جوانی ہی میں لکھا تھاکہ فلسفیوں نے صرف اور صرف دنیا کی مختلف تشریحات کی ہیں۔ لیکن اصل بات اس کو تبدیل کرنے کی ہے۔مارکس شروع ہی سے خود کو ایک فلسفی کی بجائے ایک سائنسدان کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے خیالات کا مرکز کام کا تجزیہ تھا اور اس کے لیے مناسب اقتصادی علم کا ہونا ضروری تھا۔

اس حوالے سے مارکس کو زیادہ تر اقتصادی معلومات ان کے دوست فریڈرک اینگلز نے فراہم کیں۔۔چین کی حیران کن ترقی نے کئی مبصرین کو ابھی تک حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ کمیونسٹ نظام ابھی تک کام کر رہا ہی آج کمیونزم کے نام پر، جو کچھ بھی چین،، کیوبا، ویتنام یا پھر وینزویلا میں کہا اور کیا جا رہا ہے، وہ سب کچھ مارکس کے اصل نظریات سے کم ہی مطابقت رکھتا ہے۔ چین کی موجودہ پالیسیاں مارکس کے نظریات سے کوسوں دور ہیں۔ چینی معاشرے میں بھی سماجی ناانصافیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ چینی مارکسزم اور اس ملک کے موجودہ اقتصادی نظام میں بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :