پاکستان میں 1970 کے بعد کبھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے،ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی

ہفتہ مئی 12:04

پاکستان میں 1970 کے بعد کبھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے،ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ پاکستان میں 1970 کے بعد کبھی شفاف انتخابات نہیں ہوئے، دنیا میں 70 سے 80 فیصد ووٹنگ پر الیکشن شفاف قرار دیئے جاتے ہیں۔۔سندھ میں پی ٹی آئی کی سیاست دفن ہوچکی ہے، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یوتھ کو بے بی اور بوڑھوں کو جوان کہتے ہیں۔

خصوصی انٹرویو میں ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہاکہ ملک میں جب تک شفاف الیکشن نہیں ہوں گے اس وقت تک مسائل ختم نہیں ہوسکتے، انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ 2013کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کھلا میدان نہیں ملا تھا، ماضی میں3جماعتوں کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں تھیں، جن میں پیپلزپارٹی بھی شامل تھی، اس دوران پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم کے بیٹے کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جمہوری سیاست کے لئے سب کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے، موجودہ سیاسی صورت حال سے جمہوری سیاست کبھی پروران نہیں چڑھ سکتی، کٹھ پتلی حکومت آنے سے ملک کا نقصان ہوتا ہے، انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔شہلارضاپی ٹی آئی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سندھ میں پی ٹی آئی کی سیاست دفن ہوچکی ہے، آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کراچی سے عارف علوی کی نشست بھی کھو بیٹھے گی۔ایک سوال کے جواب میں شہلا رضا نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کراچی کا کچرا عامر لیاقت اٹھالیا ہے مگر بدبو تو ٹھیک کرلیتے، مریم نواز سے ہمارے لاکھ اختلافات سہی مگر عامر لیاقت کی زبان بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔