افغانستان میں دوبچوں کی ماں نے علاج کے لیے پانچ ماہ کی بیٹی بیچ دی

شوہر کا بھائی کینسر میں مبتلا،علاج کے لیے پیسے نہیں،اس لیے بیٹی کو بیچ دیا،عبیدہ نامی خاتون کی گفتگو

ہفتہ مئی 12:27

افغانستان میں دوبچوں کی ماں نے علاج کے لیے پانچ ماہ کی بیٹی بیچ دی
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) افغانستان میں دو بچوں کی ماں نے اپنے ایک قریبی عزیز کے علاج کے لیے رقم اکھٹی کرنے کی خاطر اپنی پانچ ماہ کی بیٹی فروخت کر دی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس واقعہ کی خبر ہوتے ہی ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جس کے بعد لوگوں اور حکومتی عہدے داروں نے علاج کے لیے رقم کا بندوبست کیا اور قیمت چکا کر ماں کو اس کی بچی واپس دلا دی۔

(جاری ہے)

افغان صوبے فاریاب کے قصبے میمنہ کی رہنے والی عبیدہ کی شادی پانچ سال قبل ہوئی تھی۔ اس کے شوہر کا 20 سالہ بھائی خون کے کینسر میں مبتلا ہے جس کا علاج بہت مہنگا ہے۔رقم کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے عبیدہ نے اپنی پانچ ماہ کی بیٹی مہربان ایک ایسے جوڑے کے ہاتھ بیچ دی جن کی اولاد نہیں تھی۔ایک انٹرویو کے دوران عبیدہ نے بتایا کہ میں نے اپنے دیور کے علاج کے لیے اپنی بیٹی کو بیچ دیا۔جس کے بعد میں مسلسل دو دن تک روتی رہی اور سو بھی نہیں سکی۔ میں نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ ایک شخص کو موت کے منہ سے نکالنے کے لیے میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

متعلقہ عنوان :