ماہرین زراعت کی ترشاوہ باغات کے باغبانوں کو باغات میں زیادہ ہل چلانے اور مخلوط فصلات کی کاشت سے گریز کی ہدایت

ہفتہ مئی 13:30

فیصل آباد۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) شعبہ ہارٹیکلچر کے ماہرین زراعت نے ترشاوہ باغات کے باغبانوں کو باغات میں زیادہ ہل چلانے سے گریز کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ باغبان پھل توڑنے کے بعد جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کیلئے روٹا ویٹر استعمال کریںنیز باغات میں مخلوط فصلات کی کاشت سے بھی گریز کیاجائے۔ایک ملاقات کے دوران انہوںنے کہاکہ گرمیوں کے چارہ جات اور سردیوں کے چارہ جات باغوں میںہرگز کاشت نہ کیے جائیں جبکہ زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کیلئے باغات میں نامیاتی کھاد استعمال کی جائے جس کیلئے گوبر کی گلی سڑی کھاد 60 کلوگرام فی پودا ڈال کر آبپاشی کرنے کے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ باغبان اپنے باغات میں جنتر کاشت کریں اور موسم برسات سے پہلے اسے زمین میں بذریعہ روٹاویٹر ملا دیںاورجب پھل تیزی سے بڑھوتری کر رہا ہو تو مناسب وقفہ سے باغ کی آبپاشی بھی کرتے رہیں کیونکہ ان دنوں پانی اور خوراک کی کمی پھل کے کیرے اور اس کی کوالٹی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ باغبان موسم گرما میں ہلکا اور احتیاط سے پانی لگائیں۔

علا وہ ازیں چھوٹے باغات میں قطاروں کے ساتھ متوازی دائیں بائیں کھالیاں بنا کر بھی اسے سیراب کیاجاسکتاہے۔انہوںنے کہاکہ اس اقدام سے پانی دونوں طرف سے رس کر جڑوں تک پہنچ جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ باغبان پودوں کے تنے کے گرد 1سی2 فٹ چوڑائی میں مٹی کی ڈھلوان بنا دیں تاکہ پانی تنے سے براہ راست نہ چھو سکے۔انہوںنے مزید کہاکہ اگست کے آخر میں مون سون کی بارشیں اگر نہ ہوں تو اس کے بعد نائٹروجن کی تیسری قسط ڈال دیں تاکہ پھل اپنا مناسب سائز حاصل کر سکے۔

متعلقہ عنوان :