بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے الیکشن میں (ن) لیگ کو فوجی معاونت کا الزام مسترد کردیا

ہفتہ مئی 13:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے الیکشن میں (ن) لیگ کو فوجی معاونت کا الزام مسترد کرتے ہوئیخ مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے الزام پر خصوصی جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے ،ْ عمران خان بیان حلفی جمع کرائیں میں بھی بیان حلفی دوں گا ،ْ دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو عمران خان کو پھانسی ہونی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھاکہ 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو فوج کی مدد حاصل تھی۔۔عمران خان نے پنجاب کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے موجودہ سربراہ اور ملٹری انٹیلی جنس پنجاب کے سابق سربراہ بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی فتح کو یقینی بنایا۔

(جاری ہے)

ایک انٹرویومیں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے 2013 کے انتخابات میں عمران خان کی جانب سے (ن) لیگ کو فوج کی معاونت کے الزام کی سختی سے تردید کی۔مظفر رانجھا نے عمران خان کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا اور کہاکہ عمران خان غیر ذمہ دار شخص ہیں جو فوج پر انتخابات میں اثرانداز ہونے کا الزام لگا رہے ہیں ،ْفوج بحیثیت ایک ادارہ کام کرتا ہے ،ْایک بریگیڈیئر اپنے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی نے سختی سے منع کیا تھا کہ سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنا ہے۔مظفر رانجھا نے کہا کہ اس وقت ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے تھے جس میں کامیابیاں مل رہی تھیں۔بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے عمران خان کے الزام پر خصوصی جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بیان حلفی جمع کرائیں میں بھی بیان حلفی دوں گا، جو بھی غلط نکلے اسے سخت سزا دی جائے۔

مظفر علی رانجھا نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پرتحقیقات کے باوجود سیاسی جماعت کے سربراہ کا الزامات لگانا قطعی بے بنیاد ہے۔مظفر علی رانجھا نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گزشتہ تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں تو دھاندلی کے الزامات دوسرے عدالتی کمیشن میں لے کر جائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پھر بھی عمران خان اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اس کی سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا انہیں سابق چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں بننے والے عدالتی کمیشن کے فیصلے سے اطمینان نہیں ہوا تھا جنہوں نے عمران خان کے دھاندلی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو اب بھی یقین نہیں تو پھر ایک ایسا کمیشن قائم کرنا چاہیے جس میں فوج،، عدلیہ اور میڈیا کے نمائندے شامل ہوں لیکن اس کمیشن کی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات سے قبل عمران خان سے ایک سمجھوتہ طے کرالیا جائے جس کے مطابق وہ کمیشن کے نتائج کے بعد ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں گے۔انہوں نے عمران خان کو فوج پر الزامات لگانے سے باز رہنے کا بھی مشورہ دیا۔