مقبوضہ کشمیر ، قابض انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کو پریس کانفرنس سے روکنے کے لیے نظربندکردیا

سرینگر کے علاقے چھتہ بل میں محاصرے اور تلاشی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور جھڑپیں

ہفتہ مئی 13:50

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل آزادی پسند قیادت کو آج سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے سے روکنے کیلئے نظر بند کردیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مارکر انہیںگرفتارکرلیا اوربعد میں کوٹھی باغ پولیس سٹیشن منتقل کردیا ہے۔

قابض انتظامیہ نے میرواعظ عمر فاروق کو آج گھر میں نظربند کردیا جبکہ سید علی گیلانی پہلے ہی گھر میں نظر بند ہیں۔۔ آزادی پسند قیادت کوسرینگر کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشتگردی کے پیش نظر تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کرنا تھا۔

(جاری ہے)

دریں اثناء سرینگر کے علاقے چھتہ بل اور اس کے مضافات میں بھارتی فورسز کی جانب سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ آخری اطلاعات آنے تک بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔ اس سے پہلے بھارت کی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار اسی علاقے میں ایک حملے میں زخمی ہوا تھا۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو چھتہ بل کی صورتحال کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے سے روکنے کیلئے سرینگر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے۔