مقبوضہ کشمیر: شبیر شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سید علی گیلانی

کٹھ پتلی انتظامیہ نے ایک بار سید علی گیلانی کو نماز جمعہ ادا کرنے روک دیا

ہفتہ مئی 13:50

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ سینئر مزاحمتی رہنما شبیر احمد شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربند شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہا کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شبیر شاہ کئی عارضوں میں مبتلا ہیں اور ان کا مناسب علاج نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں نظربند حریت پسند رہنمائوں اور کارکنوں بشمول مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فارو ق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ، شاہد یوسف ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، طارق احمد ڈار، منظور احمد ، محمد مظفر ڈار، غلام محمد خان سوپوری ، امیر حمزہ ، عبد الغنی بٹ، میر حفیظ اللہ ، محمد یوسف فلاحی ، رئیس احمد ڈار، شکیل احمد یتو، محمد یوسف میراور دیگر کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے ان کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔

(جاری ہے)

سید علی گیلانی نے حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی اور محمد اشر ف لایا کو گھروں میں مسلسل نظربند رکھنے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے لوگوں سے آئندہ انتخابات کابائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں ووٹ ڈالنے سے بھارتی قیادت کو تنازعہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںسید علی گیلانی کی مسلسل نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابض انتظامیہ کی بوکھلاہٹ قراردیا ہے۔ انہوںنے کہا کٹھ پتلی انتظامیہ نے ایک بار سید علی گیلانی کو نماز جمعہ ادا کرنے روک دیا ہے۔