عوام نے آئندہ عام انتخابات میں بہتر فیصلہ کیا تو مسلم لیگ(ن) اسی طرح مسائل حل کرے گی، فیصلے کا اختیارکسی اور کے پاس نہیں بلکہ عوام کے پاس ہی ہونا چاہئے، عوام کے منتخب نمائندوں کو پانچ سال حکومت کرنے کا اختیار ہونا چاہئے، موجودہ پانچ سال میں ہرحکومت کے پاس کسی نہ کسی صوبے میں اختیار تھا اس کے باوجود کام صرف مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف نے کرکے دکھائے، ملک کی خودمختاری اورترقی کے کام عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ(ن) کو کسی نکات کی ضرورت نہیںوہ اپنے ریکارڈپر کھڑی ہے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ہفتہ کو پسرورمیں سیالکوٹ پسرور روڈ کے توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب

ہفتہ مئی 13:50

عوام نے آئندہ عام انتخابات میں بہتر فیصلہ کیا تو مسلم لیگ(ن) اسی طرح ..
پسرور۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگرعوام نے آئندہ عام انتخابات میں بہتر فیصلہ کیا تو مسلم لیگ(ن) اسی طرح مسائل حل کرے گی، فیصلے کا اختیارکسی اور کے پاس نہیں بلکہ عوام کے پاس ہی ہونا چاہئے، عوام کے منتخب نمائندوں کو پانچ سال حکومت کرنے کا اختیار ہونا چاہئے، موجودہ پانچ سال میں ہرحکومت کے پاس کسی نہ کسی صوبے میں اختیار تھا تاہم کام صرف مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف نے کرکے دکھائے، ملک کی خودمختاری اورترقی کے کام عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ(ن) کو کسی نکات کی ضرورت نہیںوہ اپنے ریکارڈپر کھڑی ہے۔

ہفتہ کووزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پسرورمیں سیالکوٹ پسرور روڈ کی توسیع کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زاہد حامد کوہرمشکل وقت میں حکومت نے جو ذمہ داری سونپی وہ انہوں نے احسن طریق سے انجام دی اورکسی بھی سنجیدہ مسئلے پرانہی سے مشاورت کی گئی اور انہوں نے کبھی اس کام کو سرانجام دینے سے انکار نہیں کیا، پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی طرف سے بنائے گئے بل میں بھی ایک غلطی پر جو کہ زاہد حامد کی نہیں تھی تاہم انہوں نے اخلاقی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دے دیا یہی سیاست اورشرافت کی سیاست کا معیار ہے ، ان کے اوپر کوئی دبائو نہیں تھا، انہوں نے خود رضارکارانہ طور پر استعفیٰ دینے کی پیش کش کی یہ خدمت کی سیاست کا معیار ہے اور اس پر ان کے حلقے کے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایسا نمائندہ منتخب کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جتنی عزت کسی جج ، جرنیل کی ہے اتنی ہی سیاست دان کی بھی ہے، ملک کے معاملات اورمسائل کا حل بالآخر سیاستدانوں کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بیٹھے خواجہ محمد آصف، زاہد حامد ، افتخارالحسن شاہ اور دیگر سیاستدانوں کو کون نہیں جانتا، خواجہ آصف نے 30سال ملک کی خدمت کی ہے اور ایک اقامہ جو کہ صرف ایک ویزہ ہوتا ہے جس میں انہوں نے ٹیکس بھی ظاہرکئے اس پر انہیں نااہل کردیا گیا یہ فیصلے کیا ملک کے حق میں ہیں ہم نے یہ فیصلے قبول کئے ، سرآنکھوں پررکھے لیکن نہ تاریخ ان فیصلوں کو قبول کرے گی اور نہ ہی پاکستان کے عوام قبول کرتے ہیں، یہی سیاستدان ہر پانچ سال بعد عوام کے احتساب کے عمل سے گزرتے ہیں، صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوتا ہے باقی کسی کا نہیں ہوتا، آج کون سی بات ایسی ہے جو اخبارات یا ٹی وی کی زینت نہیں بننی چاہئے اس میں صداقت ہو یا نہ ہولیکن سیاستدان یہ برداشت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک ووٹ اورسیاستدان کو عزت نہیں دی جاتی، ووٹرکی جانب سے بیلٹ سے کئے گئے فیصلے کو عزت دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیالکوٹ پسرور روڈ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا وژن تھا وہ منصوبہ بندی کے دوران خود بتا دیتے تھے کہ اس علاقہ میں روڈ یا سکول یا دیگرسہولیات ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی محنت کے پورے پنجاب میں ثبوت موجود ہیں، ہم دیگر صوبوں میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ ہوتا، دیگرصوبوں کے پاس بھی وسائل موجود ہیںتاہم لگن اورمحنت کی بات ہے۔ انہوںنے کہا کہ مجھے وزارت عظمیٰ سنبھالے 8ماہ ہوچکے ہیں، ہر ہفتے اربوں روپے کے منصوبوں کا افتتاح ہورہا ہے، یہ ہمارے دور میں ہی شروع کئے گئے اور اسی دورمیں ہی مکمل ہوئے، ہم نے ایسے منصوبے بھی مکمل کئے جو 20، 20سال سے نامکمل تھے ، کئی نئے منصوبے بھی جاری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ موٹروے سے اس علاقے کی تقدیر بدل جائے گی یہ منصوبہ ماضی میں بھی بن سکتا تھا ، جنرل مشرف اور زرداری کے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی، پاکستان میں اگرکسی جماعت نے کام کرکے دکھایا ہے تو وہ مسلم لیگ(ن) ہے ، کسی لیڈر کے پاس عوام کے مسائل کے حل کا درد ، سوچ اور وژن ہے تو وہ لیڈر صرف نواز شریف ہے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کوئی نکات نہیں دیئے بلکہ ہم نے موقع پرکام کرکے دکھائے، پانچ سال گزرنے کے بعد ان لوگوں کو یہ نکات یاد آئے ، آج کسی صوبے میںچلے جائیں وہاں پرکام پر صرف مسلم لیگ(ن) کے ہی نظر آئیں گے، مسلم لیگ(ن) ملک کا درد رکھتی ہے ، وسائل آج بھی پہلے جتنے ہی ہیں تاہم ایک سوچ تھی جس کی بنیاد پر یہ حکومت تعمیروترقی کا سفرجاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو اس وقت شرح نمو تین فیصد تھی جو اب بڑھ کر6فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرعوام نے آئندہ عام انتخابات میں بہتر فیصلہ کیا تو مسلم لیگ(ن) مسائل اسی طرح حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ عوام کا فیصلہ بہتر ہوگا، فیصلے کا اختیارعوام کے پاس ہی ہوتا ہے کسی اورکے پاس فیصلے کا اختیارنہیں ہوسکتا یہ آئین اورقانون میں بھی واضح ہے، عوام کے منتخب نمائندوں کو پانچ سال حکومت کرنے کا اختیار ہونا چاہئے، موجودہ پانچ سال میں ہرحکومت کے پاس کسی نہ کسی صوبے میں اختیار تھا تاہم کام صرف مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف نے کرکے دکھائے، ملک کی خودمختاری اورترقی کے کام عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ(ن) کو کسی نکات کی ضرورت نہیںوہ اپنے ریکارڈپر کھڑی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ نہ صرف پسرور بلکہ پورے پاکستان کا باشعور ووٹر یہ سمجھتا ہے کہ کون دعوے کرتا ہے اورکون عوام کی خدمت کرتا ہے۔ مجھے مسلم لیگ(ن) کے ووٹر زاور سپورٹرز پرپورا یقین ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر مسلم لیگ(ن) کو کامیاب کریں گے۔ اس حلقہ سے بھی مسلم لیگ(ن) ہی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام بہتر فیصلہ کریں گے تو ترقی کا سفر جاری رہے گا ، گالم گلوچ کیلئے دوسری جماعتیں موجود ہیں۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف اور زاہد حامد نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں وزیراعظم کو کیڈٹ کالج پسرور کے کیڈٹس نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ انہیں سیالکوٹ پسرور منصوبے پر بریفنگ بھی دی گئی۔