وفاقی بجٹ برائے سال 2018-19کو کالعدم قرار دینے کیلئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر

موجودہ حکومت کی مدت 31مئی کو ختم ہورہی ہے، آنے والی حکومت کے دورانیہ کا بجٹ پیش کرنے کا اختیارنہیں‘موقف

ہفتہ مئی 14:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) وفاقی بجٹ برائے سال 2018-19کو کالعدم قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کردی گئی۔

(جاری ہے)

شفقت محمود چوہان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، کیبنٹ ڈویژن، وزارت خزانہ سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 80 کے تحت حکومت اپنی معیاد کے اندر رہتے ہوئے سالانہ بجٹ پیش کرنے کی پابند ہے، حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کر کے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا جوکہ ماورائے آئین اقدام ہے، وزیراعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر خزانہ کا درجہ دے کر بجٹ پیش کرنے کا غیر قانونی اختیار سونپا گیا۔

جو حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل چھیاسی کے تحت نگران حکومت اپنی آمدن اور اخراجات خود پورا کرنے کی پابند ہے جبکہ معیاد مکمل ہونے کی بنا پر حکومت کو وفاقی بجٹ پیش کرنے اور ووٹرز کے استحقاق کو مجروع کرنے کا کوئی اختیارحاصل نہیں لہذا عدالت بدنیتی پر مبنی وفاقی بجٹ کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔