پاکستان میں جدید زمینی اور آبی سٹرکچرز کا قیام ناگزیر ہے ، جاپان

جاپان مستقبل میں بھی قدرتی آفات کے مسائل کے حل کیلئے پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا،جاپانی سفیر

ہفتہ مئی 14:50

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) جاپانی سفیر مسٹر ہاروشی انومیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے لیے جدید زمینی اور آبی سٹرکچرز کا قیام ناگزیر ہے ،قدرتی آفات سے دنیا بھر میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوتا ہے تاھم ان نقصانات میں کمی کے قابل عمل اقدامات سود مند ثابت ہو سکتے ہیں ،ان مسائل سے نمٹنے کیلئے ہر سطح پر آگاہی کا فروغ ضروری ہے ،طلباء و طالبات کو بھی قدرتی آفات سے بچائو کیلئے تیار کرنا ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوائل اینڈ واٹرکنزرویشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ چکوال اور یونیسکو(ادارہ برائے تعلیم،، سائنس اور ثقافت اقوام متحدہ ) کے زیر اہتمام بین الاقوامی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

ورکشاپ کا عنوان ’’معاشرے کا قدرتی آفات سیلاب اور خشک سالی سے بچائو کے لئے مجموعی کردار‘‘ تھا ۔دیگر مہمانوں میں چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اسلام آباد ڈاکٹر یوسف ظفر ، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ پنجاب ڈاکٹر عابد محمود،چیئرمین فیڈرل فلڈ کنٹرول ڈاکٹر احمد کمال ، نمائندہ جاپان ایجنسی برائے بین الاقوامی تعاون یاشورو ٹوجو تھے۔

ڈاکٹر شہباز خان نے بتایا کہ 2010 میں پاکستان میں آنیوالے سیلاب کے بعد حکومت جاپان یونیسکو سے مل کر کام کر رہی ہے۔ اس کے لئے حکومت جاپان نے ایک منصوبہ بنایا تھا جس کا مقصد سیلاب کی پیشگی اطلاع اور پاکستان کی کپیسٹی بلڈنگ تھا۔ یہ منصوبہ جولائی 2011 سے ستمبر 2014 تک کامیابی سے چلایا گیا ۔ اس منصوبہ میں بین الاقوامی مرکز برائے واٹر اور رسک مینجمنٹ نے یونیسکو سے مل کر ایک ماڈل بنایا ۔

اس ماڈل کے ذریعے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ کس وقت اور کس جگہ کتنی بارش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یونیسکو اب سیلاب اور خشک سالی پر کنٹرول کے لئے یونیورسٹی کی سطح پر تربیت دے رہا ہے۔یونیسکو نے جاپان کے تعاون سے پاکستان کے انجینئرز کو بھی سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے تربیت دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق مستقبل میں پانی کی کمی شدت اختیار کر سکتی ہے جس کے لئے ہمیں پانی کو محفوط بنانا ہے اور زمینی کٹائو کو روکنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔ اس موقع پرڈائریکٹر سوائل اینڈ واٹر کنزرویشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ پنجاب ڈاکٹر محمد طارق نے بتایا کہ ہمارا ادارہ قدرتی آفات پر قابو پانے کیلئے یونیسکو کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ آبی و زمینی وسائل بنانے پر تحقیق کر رہا ہے جس سے قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر نمائندہ جاپان ایجنسی برائے بین الاقوامی تعاون نے بتایا کہ جاپان مستقبل میں بھی قدرتی آفات کے مسائل کے حل کیلئے پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔