پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پرآگیا

طوفان اور آفات کے باعث 2017-18 میں عالمی مارکیٹ میں کپاس کی قیمتوں میں اچانک غیر معمولی اضافہ ہوگیا

ہفتہ مئی 14:50

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے جبکہ ملکی مجموعی پیداوار کا قریباً 72 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعے ملک کو کثیر زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے سرکاری خبررساں ادارے کو جاری اعداد وشمار کے مطابق کپاس کا ہماری قومی GDP میں 1.5 فیصد اور معیاری زرعی مصنوعات کی تیاری میں 7 فیصد حصہ ہے۔

کپاس دنیا کی ایک اہم ترین ریشہ دار فصل بھی ہے۔زرعی ماہر نویس عصمت کاہلوں نے اے پی پی کو بتایاکہ پاکستان میں 2015-16 میں شدید بارشوں، سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے شدید حملے کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور کاٹن انڈسٹری زوال پذیر ہو گئی ۔

(جاری ہے)

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی ہماری کپاس کا پرسانِ حال کو ئی نہ تھا کیونکہ کپاس کی صاف چنائی پر توجہ نہ دی جا رہی تھی۔

2016-17 میں پاکستان میں کپاس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور کاٹن انڈسٹری کو سہارا دینے کیلئے حکومت نے وزیراعظم کسان پیکج اور بعد ازاں صوبہ پنجاب کی سطح پر وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے 212 ارب روپے کے خادم پنجاب کسان پیکج کا اعلان کیا۔یوں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرائیویٹ سیکٹر کو پبلک سیکٹر کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی دعوت دی گئی۔

کپاس کے کاشتکاروں کے لئے پہلی مرتبہ مون سون بارشوں کے نقصانات سے کپاس کی فصل کومحفوظ رکھنے اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے کسان پیکیج کے تحت 6 کروڑ روپے کی سبسڈی سے رین واٹر مینجمنٹ، پائلٹ پراجیکٹ مکمل کیا گیا ۔کپاس کے کھیتوں میں کھڑے بارش کے اضافی پانی کی فوری نکاسی ممکن بنانے کے لئے 250 پورٹ ایبل پمپس فراہم کیے گئے ہیں۔اسی طرح 2017-18 میں بین الاقوامی طور پر کپاس کی قیمتوں میں یک لخت غیر معمولی اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ دنیا کے کئی ممالک میں طوفان اور آفات کی وجہ سے کپاس کی فصل متاثر ہوئی، بھارت میں کپاس بارشوں اور سیلاب سے شدید متاثر ہوئی اور اسی وجہ سے امریکی کپاس کی برآمدات کے آرڈرز منسوخ ہو گئے۔

پی سی جی اے ((پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن) کے مطابق سال 2017-18میں صوبہ میں کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 20.48 من ریکارڈ کی گئی جبکہ سال 2016-17 میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 20 من رہی۔ سال 2017-18 میں کل 50 لاکھ 73 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی گئی جوکہ سال 2016-17 میں کل 44 لاکھ 86 ہزار ایکڑ کاشتہ رقبہ کے مقابلہ میں 13.10 فیصد زیادہ تھی۔ سال 2016-17 میں صوبہ میں کل 69 لاکھ 78 ہزار روئی کی گانٹھیں پیدا ہوئیں جبکہ سال 2017-18 کے دوران کراپ رپورٹنگ کے فائنل تخمینہ کے مطابق پنجاب میں 80لاکھ 77 ہزار گانٹھیں روئی پیدا ہوئی یعنی پچھلے سال کی نسبت 15.70 فیصد زائد روئی کی گانٹھیں حاصل ہوئیں۔

اگر فی ایکڑ پیداوار کی بات کی جائے تو سال 2016-17 کے مقابلہ میں 2017-18 کے دوران 2.40 فیصد زیادہ پیداوارریکارڈ کی گئی۔