ججوں کی بھرتی پر عدالت عظمیٰ اور مرکز میں ٹھن گئی،ایک دوسرے پر الزامات عائد

سپریم کورٹ کا دورکنی بینچ منی پور سے ایک مدعی کے تبادلے کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکز پربرہم

ہفتہ مئی 15:00

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے درمیان ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیوں پر بھرتی میں تاخیر پر تنازع پیدا ہوگیا۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو اسکا الزام دیا اور سپریم کورٹ کے کالجیم پر بھی انگلی اٹھائی۔

(جاری ہے)

بھارتی ٹی وی کے مطابق جسٹس مدن اور دیپک گپتا پر مشتمل 2رکنی بنچ نے منی پور سے ایک مدعی کے تبادلے کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکز پر نکتہ چینی کی او رکہا کہ وہ ان ججوں کو بھرتی نہیں کررہی جس کی سفارش سپریم کورٹ کے کالجیم نے کی تھی۔

واضح رہے کہ ہائیکورٹس میں تقریباً38فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ سب سے زیادہ مسئلہ میگھالیہ، تریپورہ اور منی پور کی ریاستوں میں ہے۔ان ریاستوں میں صرف 2 ججوں پر دبائو ہے جس کے نتیجے میں درخواست گزار کو سنگل جج کے بنچ کے احکامات چیلنج کرنے کیلئے کوئی فورم نہیں ملتا۔ انکے پاس سپریم کورٹ میں درخواست دینے کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔