اشتعال انگیز تقریر کیس ،

چالان میں ایم کیو ایم بانی، سلمان مجاہد سمیت دیگر کو مفرور قرار عدالت نے تفتیشی افسران سے مزید مقدموں کے چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کی استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی

ہفتہ مئی 16:18

ْکراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتعال انگیز تقریر کے مقدمات میں تفتیش افسران کو چالان پیش کرنے کا حکم سے دیا۔ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے روبرو اشتعال انگیز تقریر کے 30 سے زائد مقدمات اور میڈیا ہاس پر حملے، جلا گھیرا اور دہشتگردی کے 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار،، عامر خان، خواجہ اظہار، رف صدیقی، قمر منصور، ریحان ہاشمی اور شاہد پاشا سمیت دیگر پیش ہوئے۔

اشتعال انگیز تقریر کے 5 مقدمات میں حتمی چالان عدالت میں پیش کردیا گیا۔ پولیس نے چالان میں ایم کیو ایم بانی، سلمان مجاہد سمیت دیگر کو مفرور قرار دے دیا۔ اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں عدالت نے تفتیشی افسران سے مزید مقدموں کے چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کی استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

(جاری ہے)

میڈیا ہاس پر حملے، جلا گھیرا اور دہشتگردی کے 2 مقدمات میں عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید جمیل کی عدم حاضری کے باعث فرد جرم موخر کردی۔

کبور نوید جمیل نے درخواست دائر کی کہ ان کے موکل اسمبلی سیشن میں مصروف ہیں اس لیئے استثنی کی درخواست منظور کی جائے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وہ تاریخ رکھی جائے جس میں اسمبلی سیشن نہ ہو۔ پراسیکیوٹر اور ملزمان کے مشاورت کے بعد عدالت نے مقدمات کی سماعت 2 جون تک ملتوی کردی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لیاقت آباد اور کراچی کی عوام جلسے کو کامیاب بنائیں گے۔

لیاقت آباد کا جلسہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ میں نے جلسے میں شرکت کے لیئے سب سے درخواست کی ہے۔ لیاقت آباد کا جلسہ ایک تاریخ رقم کرے گا۔ آج پاکستان کو بچانے کا وقت ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ طلبہ و طالبات جلسے میں ضرور شرکت کریں۔ سندھ سمیت ملک بھر میں بجلی بحران ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت بجلی کا مسلہ حل کرنے میں ناکام رہی۔ حکومت سندھ نے بجلی کی استعداد کار بڑھانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔

کے الیکٹرک نے اب تک اپنے قبلے کو درست نہیں کیا۔ ہماری 3 دن کی مہلت پر کے الیکٹرک کو گیس فراہم کی گئی۔ ہم کے الیکٹرک کے دفتر پر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو اس سے قبل کے الیکٹرک سدھر جائے۔ واٹر بورڈ بھی پانی کی فراہمی ممکن بنائے۔ فاروق ستار نے کہاہم نے کہا تھا ایم کیو ایم میں اصلاحات ہونی چاہیے۔ ایم کیو ایم کا تمام اکائیوں سے رابطہ اور انکی رہنمائی ہونی چاہیے۔

یہ مشن اس ایجنڈے کی تکمیل میں میری معاونت کرے گا۔ ہم سارے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جلسہ کر رہے ہیں۔ سندھ کے لیئے یہ جلسہ بہت اہم ہے۔ یہ جلسہ وڈیروں و دیگر جاگیرداروں کے خلاف ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے دیہی اور شہری علاقے مل کر وڈیروں کا مقابلے کریں گے۔ ایم کیو ایم کی سربراہی سے متعلق سوال پر فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے کارکنان نے مجھے کہا فاروق بھائی آپ بڑے ہیں اپنا دل بڑا کریں اب اس کا مطلب سمجھ لیں۔

سماعت کے بعد ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان غیر رسمی گفتگو میں کہا جلسے کی قیادت اور باگ ڈور کارکنان کے ہاتھ میں ہوگی۔ دھڑوں سے متعلق سوال پر عامر خان نے کہا کہ کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ایم کیو ایم ایک ہی ہے۔ ایم کیو ایم ایک تھی اور ایک ہی رہے گی۔ عامر نے الزامات سے متعلق سوال پر کہا جس نے الزام لگایا اس سے ہی جا کر پوچھیں۔

خواجہ اظہار نے ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں کا ایک ہونے کا عندیہ دے دیا۔ دونوں دھڑے مل بیٹھیں گے اور اور اتفاق رائے سے معاملات حل ہو جائیں گے۔ جلسے کی باگ ڈور کارکنان کے ہاتھ میں ہیں۔ ہمارا سربراہ اس وقت کورٹ میں ہے اس کا فیصلہ کورٹ کرے گی۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو 44 سال بعد کراچی کا خیال آیا۔ پیپلز پارٹی کو 44 سال بعد پتہ چلا کہ کراچی میں کوئی لیاقت آباد بھی ہے۔

میں سعید غنی سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی قیادت کے ہمراہ اورنگی، نیو کراچی اور کورنگی میں بھی آئین۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا حق ہے کہ وہ کراچی میں جلسہ کرے۔مگر جلسوں میں کراچی کے مینڈیٹ اور لوگوں کی توہین نہ کریں۔ جس نے توہین کی اسکا منہ توڑ جواب سود سمیت دیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کی جو تقسیم کرانا چاہتے تھے وہ فارغ ہو گئے۔

اس نوقع پر ایم کیو ایم کے رہنما رف صدیقی نے بھی میڈیا سے بات میں کہا کہ صرف ایک جلسے کے لئے ہم ایک نہیں ہوئے۔ ایم کیو ایم ایک برانڈ ہے۔ پتنگ ایک برانڈ ہے۔ ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ معاملات اب بہتر ہو رہے ہیں۔ رف صدیقی نے کہا کہ زمہ داروں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے کارکنان ایک ہیں۔ میں نہیں سمجھتا ایک ہونے میں کسی کا دبا ہے۔ اگر دبا والی بات ہوتی تو پہلے ہی سب ایک ہو جاتے۔