رواں مالی سال کے گزشتہ دس ماہ میں سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت کا استعمال 95 فیصد رہا، اے پی سی ایم اے

ہفتہ مئی 16:19

رواں مالی سال کے گزشتہ دس ماہ میں سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت کا استعمال ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) رواں سال اپریل 2018ء میں بھی سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ جاری رہا اور یہ دوسرا مہینہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہوا جو 81 فیصد تھا جبکہ سیکٹر کی پیداواری گنجائش بھی ریکارڈ سطح پر رہی۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن((اے پی سی ایم ای) کے اعداد و شمار کے مطابق سیمنٹ کی فروخت اپریل 2018ء میں 4.237 ملین ٹن رہی جو گزشتہ برس سے 17.46 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ برس یہ فروخت 3.576 ملین ٹن تھی۔ اس میں مقامی کھپت 3.772 ملین ٹن تھی جس میں 3.111 ملین ٹن ملک کے شمالی علاقے میں فروخت کی گئی اور 0.661 ملین ٹن ملک جنوبی علاقے میں فروخت کی گئی۔ کھپت میں اضافہ 13.62فیصد تھا۔سیمنٹ کی برآمدات اس دوران 0.465 ملین ٹن تک بڑھ گئیں جو گزشتہ برس کی اسی مدت سے 81.4 فیصد زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں مجموعی فروخت 38.996 ملین ٹن تھی ، گزشتہ برس یہ فروخت 33.880 ملین ٹن تھی۔

اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں 15.10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ کے کارخانوں کی مقامی فروخت 28.999 ملین ٹن تھی اور یہ گزشتہ سال کی اسی مدت سے 18.69 فیصد زیادہ ہے۔ شمالی علاقے کی برآمدات 2.674 ملین ٹن تھی اور یہ گزشتہ برس سے 1.27 فیصد کم ہے۔ ملک کے جنوبی علاقوں میں قائم سیمنٹ کی مقامی پیداواری کھپت 6.087 ملین ٹن تھی جو گزشتہ برس سے 11.94 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح یہاں برآمدات 1.236 ملین ٹن تھی جو گزشتہ برس سے 5.04 فیصد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کھپت میں اضافہ معیشت کے لیے باعث تقویت ہے کیونکہ سیمنٹ سے انفرااسٹرکچر میں بہتری رونما ہوتی ہے اور ملک میں مکانات کی زیادہ تعمیر عمل میں آتی ہے۔ تاہم ، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی ) کے نفاذ سے مقامی کھپت متاثر ہوگی کیونکہ فی بیگ 15روپے کا اضافہ ہوجائے گا۔

انڈسٹری نے اپنی بجٹ تجاویز میں کئی برسوں سے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جائے کیونکہ یہ لگژری آئٹم نہیں ہے اور اس ڈیوٹی کا نفاذ ایسی اشیاء کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی برآمدات میں اضافہ بہتری کا باعث ہے تاہم ڈالر کی قدر میں اضافہ اس کا بنیادی سبب ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں سیمنٹ کے مقابلے کی سکت میں بہتری رونما ہوئی ہے۔

حکومت اگر کوئلے اور پاور پر عائد ڈیوٹی میں کمی کرتی ہے تو انڈسٹری کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت سیمنٹ انڈسٹری پر عائد ایف ای ڈی اور ٹیکسز میں کمی کرے تاکہ مقامی سیمنٹ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرسکے اور ساتھ ہی مقامی کھپت میں بھی اضافہ ممکن ہو۔ مقامی کھپت پی ایس ڈی پی میں کم رقم مختص کی جانے کی وجہ سے متاثر ہوگی۔