10ارب روپے سے فیروز پور روڈ پر ایل ڈی اے ٹاور کمپلیکس تعمیر‘

چار کروڑسے جیل روڈ اور مال روڈ پر پیدل سڑک پارکرنے کیلئے بنائے گئے پلوں کی مرمت کی منظوری وزیر اعلی پنجاب کے مشیر خواجہ احمد حسان کی زیر صدارت لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں اہم فیصلے

ہفتہ مئی 16:44

10ارب روپے سے فیروز پور روڈ پر ایل ڈی اے ٹاور کمپلیکس تعمیر‘
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی نے 10ارب روپے کی لاگت سے فیروز پور روڈ پر واقع پرانی سبزی منڈی کوٹ لکھپت کی اراضی پر کثیر المنزلہ ایل ڈی اے ٹاور کمپلیکس تعمیر کرنے اور اس کے لئے فوری طور پر کنسلٹنٹ کے تقرر کی منظوری دے دی ہے ، چار کروڑ15لاکھ روپے کی لاگت سے جیل روڈ پر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور کنیئرڈکالج جبکہ مال روڈ پرپنو راما سنٹر کے قریب پیدل سڑک پارکرنے والوں کے لئے بنائے گئے تین پلوں کی مرمت و بحالی کا کام کیاجائے گا ، ٹریفک کے دبائو کے پیش نظرڈاکٹرز ہسپتال سے ایکسپوسنٹر تک جانے والی 3.3کلومیٹر طویل مولانا عبد الحق روڈ کو سگنل فری کوریڈور بنایا جائے گا ، اس منصوبے پر 37کروڑ58لاکھ روپے خرچ ہوں گے ۔

شوکت خانم ہسپتال چوک سے رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے والی خیابان جناح کی توسیع و بہتری کے لئے بھی 46کروڑ53لاکھ روپے کے نظر ثانی شدہ تخمینے کی منظوری دے دی گئی ۔

(جاری ہے)

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا اجلاس گزشتہ رو زوزیر اعلی پنجاب کے مشیر اور گورننگ باڈی کے ممبر خواجہ احمد حسان کی زیر صدارت 90شاہراہ قائد اعظم پر منعقد ہوا جس میں لاہور سے رکن صوبائی اسمبلی بائو محمد اختر‘ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے شکیل احمد‘منیجنگ ڈائریکٹر واسا سید زاہد عزیز،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایل ڈی اے سمیعہ سلیم ‘چیف ٹائون پلانر سید ندیم اختر زیدی ‘چیف میٹرو پولیٹن پلانرشکیل انجم منہاس‘چیف انجینئر ٹیپاایل ڈی اے مظہر حسین خان اور صوبائی محکمہ ہائوسنگ‘ منصوبہ بندی ، بلدیات اور خزانہ اور کمشنر لاہور ڈویژن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایل ڈی اے ایونیو ون ہائوسنگ سکیم کے بلاک ایل میں واقع 526ڈویلپڈمگر ناقابل رسائی پلاٹوں کے لئے متبادل راستہ تعمیر کرنے کے لئے سکیم پلان میں ترمیم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔ پٹرول پمپ کے لئے مختص پلاٹ نمبر390بلاک ڈی ٹو جوہر ٹائون کا لینڈ یوز تبدیل کر کے یہاں کمرشل پلاٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران ایل ڈی اے میں مختلف اسامیوں پر بھرتی اور اہلکاروں کی ترقی کے معیار کے بارے میں بھی اہم فیصلے کئے گئے ۔

ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئرنگ ‘سٹاف آفیسر‘کال سنٹر آپریٹر ‘الیکٹریشن ‘لائن مین اور ڈرافٹسمین وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ دوران ملازمت انتقال کرجانے یا مستقل طور پر کام کرنے سے معذور ہوجانے والے ملازمین کے بچوں کو گریڈ ایک سے گیارہ تک کی اسامیوں پر بھرتی کے لئے پنجاب سول سرونٹس رول17اے میں کی جانے والی ترمیم پر ایل ڈی اے میں بھی عمل در آمد کا فیصلہ کیا گیا ۔

گورننگ باڈی نے واسا میں مینجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر (فنانس‘ایڈمن اینڈ ریونیو)کی اسامیوں پر تقرری کے لئے اہلیت کے معیارمیں تبدیلی کی منظوری دیتے ہوئے حکومت پنجاب کی طرف سے ڈیپوٹیشن پربھیجے جانے والے افسران کے ساتھ ساتھ واسا کے تین سینئر موسٹ افسروں میں سے کسی ایک کو میرٹ کی بنیاد پر ان اسامیوں پر تعینات کئے جانے کی بھی منظوری دے دی ۔

اجلاس میں واسا کو بورڈ آف ریونیو حکومت پنجاب کے مقرر کردہ معیار کے مطابق پٹواری کی اسامیوں پر بھرتی کی اجازت دینے کے علاوہ 30جون 2017ء تک بطور ورک چار دوسالہ مدت ملازمت پوری کرنے والے زائد العمر ملازمین کو ریگولر کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔اس کے علاوہ ایکسیئن طارق محمود کے بارے میں کی جانے والی انکوائری کے نتیجے کی توثیق کرتے ہوئے افسرمذکورہ کو ان الزامات سے بر ی کر دیا ۔