سی پیک علاقائی رابطے کا اہم فریم ورک ہے،چین پاکستان کیساتھ وسطی ایشیاء اور خطے پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے‘عرفان یوسف

ہفتہ مئی 16:44

سی پیک علاقائی رابطے کا اہم فریم ورک ہے،چین پاکستان کیساتھ وسطی ایشیاء ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) چین پاکستان اقتصادی راہداری(((سی پیک))علاقائی رابطے کا اہم فریم ورک ہے،،سی پیک سے نہ صرف چین پاکستان کو فائدہ ہو گا بلکہ ایران ،،افغانستان،،،بھارت،،وسطی ایشیاء اور خطے پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے ،،سی پیک گلوبلائزڈ دنیا میں معاشی علاقائی کاری کی طرف ایک اہم سفر ہے، اس نے سب کیلئے امن،ترقی اور جیت کا ماڈل قائم کیا ہے۔

سی پیک کا مقصد پاکستان اور چین کی عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے دو طرفہ رابطے کو فروغ دینا،تعمیراتی کام،باہمی سرمایہ کاری،اکنامک اور ٹریڈ،لاجسٹکس کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطے کیلئے لوگوں کا لوگوں تک رابطہ کروانا ہے۔ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف نے گوانگژوجنرل چیمبر آف کامرس(( جی جی سی سی) کے صدر ژوژیانگ اور اور دیگر ممبران سے ملاقات کے موقع پر کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گوانگژوجنرل چیمبر آف کامرس کے صدر ژوژیانگ نے کہاکہ ایف پی سی سی آئی پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے موقعوں کے بارے میںہمیں معلومات مہیا کرئے ہم مزید بھاری سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہے۔۔پاکستان کی بنی ہوئی پروڈکٹ خصوصی طور پر لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی پروڈکٹ بہت اچھی ہوتی ہے،ہمیں ایف پی سی سی آئی معلومات دیں ہم پاکستانی کاروباری برادری کو چین میں پاکستانی پروڈکٹ کو سیل کرنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرئے گئے۔

اس سے دونوںدوست ممالک کی کاروباری برادری کو مزید اپنے قریب لانے اور ایک دوسرے کی ریسرچ سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گئی ہے۔۔پاکستان کے گوانگژو میں کونسل جنرل ڈاکٹر علی احمد آرائیں اور چین میںمعروف پاکستانی بزنسمین احسان اللہ نے کہاکہ پاکستانیوں کیلئے چین کے ساتھ تجارت کے وسیع مواقعے موجود ہیں اور ہم ہر ممکن سہولت دینے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔

انہوںنے مزید کہاکہ دونوں ممالک کے تاجروں کو باہمی روابط بڑھانے چاہئیں۔ کاروبار کے لیے موزوں ماحول پیدا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبہ کو فعال ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود کا تبادلہ بھی باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ دونو ں ممالک کو تجارت و سرمایہ کاری کے متعلق معلومات کا بروقت تبادلہ یقینی بنانا چاہیے۔