ملک میں سیاست دان کی عزت نہیں ہوگی تو ترقی نہیں ممکن نہیں-شاہد خاقان عباسی

الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کرانا ہے حکومت چلانا نہیں- سیالکوٹ میں موٹروے کی افتتاحی تقریب سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مئی 16:34

ملک میں سیاست دان کی عزت نہیں ہوگی تو ترقی نہیں ممکن نہیں-شاہد خاقان ..
سیالکوٹ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 مئی۔2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس ملک میں سیاست دان کی عزت نہیں ہوگی،وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ نون لیگ کی حکومت نے 11 نکات نہیں رکھے،،نوازشریف نے اپنے عمل سے ثابت کیا۔ جتنی جج ، جرنیل یا حکومت اہلکار کی عزت ہے،اتنی ہی سیاست دان کی عزت ہونی چاہیے۔ خواجہ آصف نے 30 سال خدمت ، ایک اقامے پر نااہل کردیا گیا۔

ہم نے عدالتی فیصلے قبول کیے اور سر آنکھوں پر رکھے لیکن اسے تاریخ قبول کرتی ہے نہ عوام، یہی سیاستدان ملک کے لیے محنت کرتے ہیں اور معاملات حل کرتے ہیں، ذمہ داری لیتے ہیں اور عوام کے سامنے پیش ہوتے ہیں لیکن کسی اور کا احتساب نہیں ہوتا صرف سیاستدان کا ہوتا ہے، شیشے کے گھر میں سیاستدان رہتا ہے، ملک کے عوام اس کی ہرچیز تولتے ہیں۔

(جاری ہے)

نارووال، لاہور اور سیالکوٹ موٹروے لنک روڈ منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے 30 برس تک ملک کی خدمت کی، لیکن اقامہ جو ویزا ہوتا ہے، پر آپ سیاستدانوں کو نااہل کردیں تو کیا یہ ملک کے حق میں ہے۔

ہم نے سب فیصلے قبول کیے اور انہیں سر آنکھوں پر رکھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں نہ تاریخ قبول کرتی ہے، نہ پاکستان کے عوام قبول کرتے ہیں۔ سیاستدان ملک کے لیے کام کرتے ہیں اور ہر 5 سال بعد عوام کے سامنے پیش ہوتے ہیں، لیکن احتساب صرف سیاستدان کا ہوتا ہے، سیاستدان شیشے کے گھر میں رہتا ہے اور عوام اس کی ہر چیز کو تولتے ہیں۔ سیاستدان سب کچھ برداشت کرتا ہے، پھر بھی ملک کی خدمت کرتا ہے اور اگر ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں، تو ووٹ کو اور سیاستدان کو عزت دینی ہوگی، یہی ملک کی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیالکوٹ سے پسرور روڈ کا افتتاح نواز شریف کا ویژن اور وعدہ تھا، ان کا ملک کی ترقی میں اتنا تجربہ ہے، وہ خود بتاتے تھے کہ کہاں سڑک بننی ہے اورکہاں سکول چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو ہمارے کاموں پر تنقید کرنا جانتے ہیں، ملک عدالتی فیصلے سے ترقی نہیں کرتا، ،،الیکشن کمیشن60دن کے اندر الیکشن کرا ئے ، الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کرانا ہے حکومت چلانا نہیں، حکومت چل رہی ہے اور آخری مدت تک چلے گی،ہم گھبرائے نہیں اور نہ پیچھے ہٹے، ملک میں اگر انتشار نہ ہوتا تو ہم آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہوتے، ملک عدالتی فیصلے سے ترقی نہیں کرتا، کوئی سرکاری افسر کام کرنے کو تیار نہیں-انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے، سب مسلم لیگ(ن) کے کاموں سے واقف ہیں، عوام جانتے ہیں کہ ووٹ میاں نواز شریف کا ہے ملک تب ترقی کرے گا جب سب ایک ساتھ چلیں گے ،سب ادارے مل کر وہ کام کریں جس سے ملک میں ترقی ہو۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہماری سیاست کا محور عوام کی خدمت ہے، عزت اور وقار کے ساتھ سیاست کی جائے، پاکستان کو ترقی دی جائے، نواز شریف نے عمل سے ثابت کر دیاہے، پاکستان مسلم لیگ باوقار طریقے سے سیاست کرتی ہے، نارووال آ کر بہت خوشی ہوئی ہے، یہ منصوبہ 16ارب روپے کا ہے‘ منصوبہ تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھے گا-انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ نواز شریف کا خواب پورا ہورہا ہے، آج نواز شریف کے خواب کی تکمیل کی جا رہی ہے، بہت سے منصوبے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے مکمل کر کے دکھائے، ہر ہفتے سینکڑوں ارب روپے کے منصوبے مکمل کئے، پچھلی حکومتوں میں بھی ترقی کی ایسی مثالیں نہیں ملتیں، ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو ہمارے کاموں پر تنقید کرنا جانتے ہیں-انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کی کامیابی تب ہوتی ہے جس کے کاموں سے لوگ مستفید ہوتے ہیں، پچھلے 65سال کے کاموں کا موازنہ ان 5سالوں سے نہیں کیا جا سکتا ہے، مشکلات کے باوجود ملک میں ترقی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، بجلی کے بہت سے منصوبے مکمل کر کے دکھائے، ہر شعبے میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے کام کر کے دکھائے، ملک میں امن بحال کرنے میں مسلم لیگ (ن) نے چیلنج کا مقابلہ کیا، آصف زرداری کی حکومت کے کام بھی آپ کے سامنے ہیں، آپ نے اب فیصلہ کرنا ہے ،ہم گھبرائے نہیں اور نہ پیچھے ہٹے، ملک میں اگر انتشار نہ ہوتا تو ہم آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہوتے، اداروں کو قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے--وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کرانا ہے، حکومت چلانا نہیں، حکومت چل رہی ہے اور آخری مدت تک چلے گی، پاکستان کی عوام مسلم لیگ (ن) کو 5سال کا مینڈیٹ دیا ہے، آج بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ الیکشن نہ ہوں،30جولائی سے پہلے الیکشن ہوں گے، میرا الیکشن کمیشن کو مشورہ ہے،60دن کے اندر الیکشن کرائیں، جمہوریت کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، ہم نے عدالتی فیصلے قبول کئے، آج مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں کی عزت عوام میں مزید بڑھ گئی ہے، عوام کا فیصلہ جولائی کے الیکشن میں آئے گا، عوام باشعور ہیں جو جانتے ہیں کہ کون ملک کی خدمت کرتی ہے، عوام جانتے ہیں کہ ووٹ میاں نواز شریف کا ہے ملک تب ترقی کرے گا جب سب ایک ساتھ چلیں گے ،سب ادارے مل کر وہ کام کریں جس سے ملک میں ترقی ہو، آج 65ارب ڈالر سے سی پیک کے منصوبے چل رہے ہیں، اسی طرح ملک ترقی کرتا ہے، ملک عدالتی فیصلے سے ترقی نہیں کرتا، کوئی سرکاری افسر کام کرنے کو تیار نہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے، سب مسلم لیگ(ن) کے کاموں سے واقف ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سیاستدان ملک کے لیے محنت اور کام کرتے مگر یہاں صرف سیاستدان کا احتساب ہوتا ہے، اگر ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ووٹ اور سیاستدان کو عزت دینی ہوگی۔ اس بات کا افسوس ہے اور شاید ہم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی، وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا اور جتنی ایک جج، جنرل اور سرکاری اہلکار کی عزت ہے، اتنی ہی سیاستدان کی ہونی چاہیے، کیونکہ جب ملک چلانے کا وقت آتا ہے، تو وہ کام سیاستدان کے حوالے ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اپنی جیبیں نہیں بلکہ عوام کی جیبیں بھریں، جب حکومت آئی تو جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد تھی، جو آج 6 فیصد ہے اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہا، تو آگے بھی پاکستان کے مسائل کو ہم ہی حل کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے اگلے 5 سال کا فیصلہ کرنا ہے، اگر عوام بہتر فیصلہ کریں گے، تو ترقی کا سفر جاری رہے گا۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومیں جھوٹے نعرے لگانے سے ترقی نہیں کرتیں، ترقی یافتہ قوموں کے پاس عمران خان ہوتا تو ترقی نہ ہوتی، سڑکیں پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں سے ملاتی ہیں-انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تیز تر ترقی کرتی معیشتوں میں شامل ہو گیا، تبدیلی عمل سے آتی ہے، کنٹینرز پر چڑھ کر تقریریں کرنے سے نہیں، پنجاب میں شہباز شریف نے 11ماہ میں میٹرو بنا دی، سی پیک کے خلاف ہمارے دشمنوں نے کروڑوں روپے لگا دیئے،، انتقامی کاروائیاں اور سازشیں راستہ نہیں روک سکتیں-انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آج تک ایک دن بلدیاتی یا صوبائی ادارہ نہیں چلایا، جس چیز کاتجربہ نہیں آپ اس کھیل کو نہ کھیلیں، خیبرپختونخوا حکومت نے میٹرو بس کےلئے پورے پشاور کو کھنڈر بنا دیا، پاکستان میں ہر بڑے ترقیاتی منصوبے پر نواز شریف کی سخت تختی لگی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت وعدے نہیں عمل کرتی ہے،،وزیراعظم نے مسلم لیگ(ن) کے ترقیاتی ایجنڈے پر کام جاری رکھا، وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے منشور پر عملدرآمد کیا، شاہد خاقان عباسی نے مختصر مدت میں ایل این جی ٹرمینل مکمل کرائے، توانائی میں خود کفالت پر نارووال کے عوام نے وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا، رکاوٹوں کے باوجود ترقیاتی ایجنڈے پر کام جاری رکھا، مسلم لیگ(ن) نے انتخابی منشور پر عملدرآمد کر کے دکھایا-انہوں نے کہا کہ ہر شہری جانتا ہے کہ 2013 اور 2018 کے پاکستان میں واضح فرق ہے، اگلے الیکشن میں عوام ترقی کی سیاست کو ووٹ دیںگے، الیکشن میں عوام پالیسیوں کے تسلسل کو ووٹ دیں گے، قومیں جھوٹے نعرے لگانے سے ترقی نہیں کرتیں، ترقی یافتہ قوموں کے پاس عمران خان ہوتا تو ترقی نہ ہوتی، سڑکوں کے بغیر علاقے پسماندہ رہ جاتے ہیں، سڑکیں پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں سے ملاتی ہیں، بیلٹ اینڈ روڈزاقدام میں دنیا کی 70اقوام شامل ہیں، سڑکوں کے خلاف لیکچر وہ دے رہے ہیں جو خود یہ کر نہیں سکتے-انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سڑک کی اہمیت کو سمجھا،20کروڑ عوام کا ملک ناتجربہ کار کے سپرد نہیں کیا جا سکتا، خیبرپختونخوا4سال میں میٹرو کا جنگلہ نہیں بنا سکی، پنجاب میں شہباز شریف نے 11ماہ میں میٹرو بنا دی،ملک بھر میں 1700کلومیٹر موٹرویز بن رہی ہیں، اگلے سال تک ملک بھر میں 2200کلومیٹر موٹرویز ہوں گی، 10ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی جا چکی ہے-انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار اور طلب میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، ملکی معاشی ترقی 3سے بڑھ کر 6فیصد ہو چکی ہے، پاکستان دنیا کی تیز تر ترقی کرتی معیشتوں میں شامل ہو گیا، تبدیلی عمل سے آتی ہے، کنٹینرز پر چڑھ کر تقریریں کرنے سے نہیں، پنجاب میں شہباز شریف نے 11ماہ میں میٹرو بنا دی، ہم ملک اور خطے میں امن چاہتے ہیں، دہشت گردی، جہالت اور غربت کے خاتمے کےلئے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا، سی پیک کے خلاف ہمارے دشمنوں نے کروڑوں روپے لگا دیئے، ہمارے دشمن چاتے ہیں ہم اقتصادی طور پر کریش لے جائیں، انتقامی کاروائیاں اور سازشیں راستہ نہیں روک سکتیں، عمران خان کرکٹ پر تبصرہ کر سکتے ہیں اچھے کوچ بھی ہو سکتے ہیں، عمران خان نے آج تک ایک دن بلدیاتی یا صوبائی ادارہ نہیں چلایا، جس چیز کاتجربہ نہیں آپ اس کھیل کو نہ کھیلیں، خیبرپختونخوا حکومت نے میٹرو بس کےلئے پورے پشاور کو کھنڈر بنا دیا، پاکستان میں ہر بڑے ترقیاتی منصوبے پر نواز شریف کی تختی لگی ہے۔