بھارت،ججز تعیناتی معاملہ، سپریم کورٹ اور حکومت آمنے سامنے

ہائی کورٹس میں 39فیصد آسامیاں خالی،حکومتی تاخیری حربے پر تنازع شدت اختیار کر گیا

ہفتہ مئی 17:43

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) بھارتی سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت ججز کی بھرتی معاملے پر آمنے سامنے آ گئیں،،بھارتی ہائی کورٹس میں 39فیصد آسامیاں خالی ہیں، ججز کی تعیناتی میںحکومت کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کرنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے درمیان ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیوں پر بھرتی میں تاخیر پر تنازع پیدا ہوگیا۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت کو اسکا الزام دیا اور سپریم کورٹ کے کالجیم پر بھی انگلی اٹھائی۔

(جاری ہے)

جسٹس مدن اور دیپک گپتا پر مشتمل 2رکنی بنچ نے منی پور سے ایک مدعی کے تبادلے کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکز پر نکتہ چینی کی او رکہا کہ وہ ان ججوں کو بھرتی نہیں کررہی جس کی سفارش سپریم کورٹ کے کالجیم نے کی تھی۔ واضح رہے کہ ہائیکورٹس میں تقریباً38فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ سب سے زیادہ مسئلہ میگھالیہ، تریپورہ اور منی پور کی ریاستوں میں ہے۔ ان ریاستوں میں صرف 2 ججوں پر دبائو ہے جس کے نتیجے میں درخواست گزار کو سنگل جج کے بنچ کے احکامات چیلنج کرنے کیلئے کوئی فورم نہیں ملتا۔ انکے پاس سپریم کورٹ میں درخواست دینے کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔