پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں قرآن کی تعلیم لازمی دینے کا بل منظور کر لیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مئی 17:07

پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں قرآن کی تعلیم لازمی دینے کا بل منظور ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 مئی۔2018ء) پنجاب اسمبلی نے ساﺅنڈ سسٹم ایکٹ اور تعلیمی اداروں میں قرآن کی تعلیم لازمی دینے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ خواتین کے متعلق بیان پر رانا ثنااللہ کی جانب سے معذرت نہ کرنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج بنی رہیں۔ تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں واضح کردیا کہ رانا ثنا اللہ معافی مانگیں، ورنہ احتجاج جاری رہے گا۔

رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ جس جملے پر اعتراض تھا، وہ بھی واپس لے لیا۔لہذا وہ سوری کا ایس بھی نہیں بولیں گے وزیرقانون پنجاب کے رویے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا‘حکومتی بنچوں سے بھی نعرے لگتے رہے۔معاملہ خراب ہوتا دیکھ کر اسپیکر رانا محمد اقبال نے ایوان کی کاروائی پیر تک ملتوی کر دی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے لاہور میں جلسے کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے جلسے میں شریک خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ جن خواتین نے تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کی ہے وہ کسی معزز گھرانے سے نہیں ہیں کیونکہ ان کے رقص کے انداز سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اصل میں کہاں سے ہیں؟جس پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ رانا ثناءاللہ اور دوسرے کردار، شریفوں کی ذہنیت اور ان کی نظر میں خواتین کے مقام و حرمت کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان پر ہونے والی تنقید پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں عمومی بات کررہا تھا جس کو ذاتی طور پر نشانہ نہیں بنایا اور جلسے کا 2011 کے جلسے سے موازنہ کررہا تھا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءکو لیگل نوٹس بھجوا دیا ہے۔ خواتین سے متعلق بیان پر 7 روز میں معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے دوسری صورت میں لیگل نوٹس میں رانا ثناءکیخلاف 50 ملین ہتک عزت دعویٰ کرنے کا کہا گیا ہے۔

قانونی چارہ جائی کے تحت لیگل نوٹس تحریک انصاف کی راہنما عظمیٰ کاردار نے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءکو بھجوا دیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناءخواتین سے متعلق اپنے بیان پر 7 روز میں معافی مانگیں ورنہ دوسری صورت میں ان کے خلاف 50 ملین ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا جائے گا۔