دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، آج کی دنیا کو بہت سے ابھرتے ہوئے چیلنجز ،پیچیدہ مسائل اور غیر روائتی خطرات کا سامنا ہے جو دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے کسی وباء سے کم نہیں ہے ،

صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان کایونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام سیمنار سے خطاب

ہفتہ مئی 17:44

اسلام آباد۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آج کی دنیا کو بہت سے ابھرتے ہوئے چیلنجز پیچیدہ مسائل اور غیر روائتی خطرات کا سامنا ہے جو دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے کسی وباء سے کم نہیں ہے ۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام سیمنار بعنوان’’اکیسویں صدی میں سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کا بین الاقوامی حل‘‘کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر نے کہا کہ ورلڈ آرڈر کو انسانی حقوق کے علم کو بلند رکھنے پر محیط ہونا چاہیے نہ کہ مفاد پرستی کی سیاست پر جس میں انجانے خوف اور جنگی جنون کے بادل منڈلا رہے ہوں ۔ صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قانون کا صحیح نفاذ نہ کیا گیا تو دنیا ایک اور خوفناک بین الاقوامی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی۔

(جاری ہے)

صدر نے کہا کہ آج بد قسمتی سے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پس پشت چلے گئے ہیں اور ان کی جگہ سٹرٹیجک ، معاشی اور سیاسی مفادات نے لے لی ہے ۔

صدر نے کہا کہ آج پاکستان کو ہندوستان ، افغانستان کی صورتحال اور دیگر چیلنجزسے خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خطرات کا دلجمعی اور استقامت سے حل ڈھونڈنے کی اہم ضرورت ہے ۔ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کو ہندوستان کی ہمیشہ دشمنی کا سامنا رہا ہے جو اپنے قریبی ممالک کے معاملات میں مسلسل دراندازی کرتا آیا ہے ۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کو آج غربت ، انسانی ترقی ، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کا رجحان ، معاشرتی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام جیسے جیلنجز بھی درپیش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اولین فرصت میں اور ترجیحی بنیادوں پر اپنی دانشمندانہ کاوشوں سے ان مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت میں بڑی بنیادی مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور ہمیں اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی اہداف حاصل کرنے ہوںگے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادری راہداری کوئی نعم البدل تو نہیں ، پاک چین اقتصادی راہداری سے پاکستان کے لئے بے پناہ مواقع میسر آرہے ہیں پاکستان اور چین کامیابی سے سلامتی اور سیاسی اتفاق رائے اپنے اپنے ملکوں میں پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے آزادکشمیر میں چار بڑے میگا منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں کروٹ پن بجلی کا منصوبہ، میر پور میں صنعتی زون کا قیام ، مانسہرہ مظفرآباد میرپور ایکسپریس وے اور کوہالہ میں پن بجلی کا بڑا منصوبہ شامل ہیں ۔

صدر نے کہا کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کی خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہئیے ۔ ہمیں ایک دانشمندانہ خارجہ پالیسی بنانا ہو گی جس کے تحت ہمیں چین اور روس کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہو گا اور ہمیں امریکہ کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات میں بہتری لانا ہو گی۔ صدر نے کہا کہ آج اقوام متحدہ کو دنیا میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لئے صحیح معنوں میں کام کرنا ہو گا اور اقدامات اٹھانے ہوںگے۔