بے نظیر بھٹو قتل کیس ، 5ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت (پرسوں ) ہو گی

ہفتہ مئی 17:49

بے نظیر بھٹو قتل کیس ، 5ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت (پرسوں ) ..
راولپنڈی۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار 5ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت (پرسوں )7مئی کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں ہو گی ۔۔سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رئوف اور جسٹس سردار سرفراز ڈوگر پر مشتمل ڈویژ ن بنچ کرے گا ۔قومی خبر رساں ادارے کو دستیاب اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار 5 ملزمان رفاقت حسین ،حسنین گل،عبدالرشید،اعتزاز شاہ اور شیر زمان کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے بریت کیخلاف ایف آئی اے کی اپیل پرگذشتہ سماعت 26اپریل کو ہوئی تھی ۔

اس موقع پر وکیل صفائی کی طرف سے مہلت طلب کرنے پر سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دی گئی تھی ۔

(جاری ہے)

سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رئوف اور جسٹس سردار سرفراز ڈوگر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی تھی ۔گذشتہ سماعت پر فاضل عدالت نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار 5 ملزمان رفاقت حسین ،حسنین گل،عبدالرشید،اعتزاز شاہ اور شیر زمان کی فیصلہ تک ملزمان کو نظر بند رکھنے کا حکم برقرار رکھا تھا ۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل نصیر تنولی ایڈووکیٹ اور ایف آئی اے کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک صدیق اعوان پیش ہوئے ،،عدالت عالیہ میں ایف آئی اے نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک سے گرفتار پانچ ملزمان اعتزاز شاہ وغیرہ کی بریت اور رہائی کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت عالیہ سے اپیل کے فیصلے تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے، گزشتہ سماعت پر عدالت عالیہ نے ملزمان کے کونسل نصیر تنولی ایڈووکیٹ کی جانب سے تیاری کے لیے مہلت طلب کرنے پر سماعت 7 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کی عدالتی فیصلہ تک ملزمان کو نظر بند رکھنے کی استدعا منظور کی تھی ۔

واضح رہے کہ بے نظیر قتل کیس میں ملوث 5ملزمان کو انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 31 اگست کو مقدمہ سے بری کیا تھاجنہیں بعد ازاں ایک ماہ کے لیے نظر بند کر دیا گیا تھا تاھم نظر بندی کی مدت کے خاتمے سے قبل ہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب میجر (ریٹائرڈ )اعظم سلیمان نے مذکورہ ملزمان کی نظر بندی میں مزید توسیع کے احکامات جاری کیے تھے ۔