پاکستان نے ایشیئن ترقیاتی بنک کو منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے اپنے ریذیڈنٹ مشنز کو مزید مستحکم کرنیکی تجویز پیش کردی

ہفتہ مئی 18:06

پاکستان نے ایشیئن ترقیاتی بنک کو منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے اپنے ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) پاکستان نے ایشیئن ترقیاتی بنک کو منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے اپنے ریذیڈنٹ مشنز کو مزید مستحکم کرنیکی تجویز پیش کردی۔یہ تجویز سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سید غضنفر عباس جیلانی نے ہفتہ کو منیلا میں اے ڈی بی کے بورڈ آف گورنرز کے 51ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پیش کی۔انہوں نے پاکستانی وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ایشیئن ترقیاتی بنک کو سوشل سیکٹر کیساتھ تعاون کرنے،نجی سیکٹر کو توسیع دینے،پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ سمیت آپریشنز اور ترقی پزیر ممالک کو ان چیلنجوں پر قابو پانے کے قابل بنانے اپنے استعداد کار کو بھی مزید مستحکم کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ کاریک میں حالیہ اقدامات اور سی پیک علاقائی رابطوں کی بہتری ،جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور خطے میں روز گار کے بے پناہ مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایشیئن ترقیاتی بنک کا تکنیکی اور مالی انتہائی قابل ستائش ہے اور اس سے رکن ملکوں کے درمیان علاقائی رابطوں اور تجارت میں مزید اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک کو غربت، پسماندگی،عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال،موسمیاتی تبدیلی،ماحولیات کی تنزلی،شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ جیسے گھمبیر چیلنجوں کا سامنا ہے اس لئے اے ڈی بی کیلئے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ انفراسٹرکچر،فنانشل اور علاقائی استحکام میں تعاون کی غرض سے اپنے استعداد کار میں اضافہ کرے۔انہوں نے اصلاھات متعارف کرانے میں اے ڈی بی کے صدر کے کردار کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی کا پالیسی بیسڈ پروگرام قرضے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جس کا ترقی پزیر ممالک کے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے لیجانے میں اہم کردار ہے۔

متعلقہ عنوان :