خلائی مخلوق کے آنیوالے بیانات پر افسوس ہے ،شاہد خاقان عباسی کے بطور وزیراعظم کردار پر مایوسی ہوئی ہے ،چوہدری نثار علی خان

پیغامات اور لیکس کے ذریعے مجھ پر حملے کئے جارہے ہیں ،ْیہ حملے ہضم کرنا میرے لئے مشکل ہے، مجھے یہ سن کر پشیمانی ہوئی کہ میاں صاحب نظریاتی نہیں تھے ،ْہم نے تو ساری زندگی نظریاتی سیاست کی ہے ،ْ میاں صاحب وضاحت کریں کہ محمود اچکزئی کا نظریہ تو نہیں ہے ،ْساری زندگی مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کا بوجھ اٹھایا ،ْ کسی کی جوتیاں اٹھانے والانہیں ،ْنواز شریف کی نااہلی کے وقت ناراض ارکان کا ایک طوفان تھا ،ْچاہتا تو آرام سے 40، 45 ارکان اسمبلی کا گروپ بنا سکتا تھا ،ْبڑے بڑے امتحانات آئے ،ْ اپنی جماعت کو نہیں چھوڑا ،ْ دو نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے ،ْ کسی سے آڈر نہیں لیتا ،ْ سیاسی فیصلے اپنے مرضی سے کرتا ہوں ،ْ نواز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر اور سپریم کورٹ میں نہ جانے کا مشورہ دیا ،ْ جے آئی ٹی بنی تو کہا کہ آرمی چیف کو بلائیں اور کہیں کہ فوج کے بریگیڈیئرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں ،ْ نوازشریف سے کہا عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹون نیچے لے کر آئیں ،ْ بار بار کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس وہی عدالت واپس لے سکتی ہے، ہمیں اتنی دور نہیں جانا چاہیے کہ اپنے دروازے بند کردیں ،ْ پاکستان مشکل ترین حالات سے دو چار ہے،خوفناک صورتحال رونما ہو رہی ہے، حالات سدھارنے کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوتی ہے ،ْ فوج کچھ نہیں کرتی ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے ہوتے ہیں، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں براہ راست اور بالواسطہ کردار رہاہے ،ْپریس کانفرنس سے خطاب

ہفتہ مئی 18:23

خلائی مخلوق کے آنیوالے بیانات پر افسوس ہے ،شاہد خاقان عباسی کے بطور ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما ،ْسابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ دو تین دن سے خلائی مخلوق کے آنیوالے بیانات پر افسوس ہے ،ْ پیغامات اور لیکس کے ذریعے مجھ پر حملے کئے جارہے ہیں ،ْیہ حملے ہضم کرنا میرے لئے مشکل ہے ،ْشاہد خاقان عباسی کے بطور وزیراعظم کردار پر مایوسی ہوئی ہے ،ْ مجھے یہ سن کر پشیمانی ہوئی کہ میاں صاحب نظریاتی نہیں تھے ،ْہم نے تو ساری زندگی نظریاتی سیاست کی ہے ،ْ میاں صاحب وضاحت کریں کہ محمود اچکزئی کا نظریہ تو نہیں ہے ،ْساری زندگی مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کا بوجھ اٹھایا ،ْ کسی کی جوتیاں اٹھانے والانہیں ،ْنواز شریف کی نااہلی کے وقت ناراض ارکان کا ایک طوفان تھا ،ْچاہتا تو آرام سے 40، 45 ارکان اسمبلی کا گروپ بنا سکتا تھا ،ْبڑے بڑے امتحانات آئے ،ْ اپنی جماعت کو نہیں چھوڑا ،ْ دو نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے ،ْ کسی سے آڈر نہیں لیتا ،ْ سیاسی فیصلے اپنے مرضی سے کرتا ہوں ،ْ نواز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر اور سپریم کورٹ میں نہ جانے کا مشورہ دیا ،ْ جے آئی ٹی بنی تو کہا آرمی چیف کو بلائیں اور کہیں کہ فوج کے بریگیڈیئرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں ،ْ نوازشریف سے کہا عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹون نیچے لے کر آئیں ،ْ بار بار کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس وہی عدالت واپس لے سکتی ہے، ہمیں اتنی دور نہیں جانا چاہیے کہ اپنے دروازے بند کردیں ،ْ پاکستان مشکل ترین حالات سے دو چار ہے،خوفناک صورتحال رونما ہو رہی ہے، حالات سدھارنے کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوتی ہے ،ْ فوج کچھ نہیں کرتی ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے ہوتے ہیں، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں براہ راست اور بالواسطہ کردار رہاہے۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جب نواز شریف کی نااہلی ہوئی تو ناراض ارکان کا ایک طوفان تھا ،ْچاہتا تھا تو آرام سے 40، 45 ارکان اسمبلی کا گروپ بنا سکتا تھا، دھڑے بندی کیلئے میرے پاس بے شمار ارکان اسمبلی آئے لیکن میں نے سب کو پارٹی میں رہنے کا مشورہ دیا، آپ کو گالیاں دینے والے آج وفادار ہیں لیکن ساری عمر ساتھ دینے والا اختلاف کرنے پر برا ہے ،ْ نواز شریف اور ان کے پیادوں کو کہتا ہوں کہ 34 سال پارٹی کی خدمت کی ہے، پرانے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا خوشامدیوں کو، کسی کی جوتیاں اٹھانا والا نہیں، ساری زندگی کی جوتیاں سیدھی نہیں کی، مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر جوائن کی۔

انہوںنے کہاکہ لوگ مجھ پر کسی گروپ میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور مجھے علم ہے کہ سب کا سوال یہ ہے کہ میں مسلم لیگ (ن) میں رہوں گا یا نہیں یہ سوال پوچھنے اور سوچنے والے میری سیاسی تاریخ دیکھ لیں، گزشتہ 35 سال سے ایک ہی جماعت اور نوازشریف کا ساتھی رہا، بڑے بڑے امتحانات آئے لیکن اپنی جماعت کو نہیں چھوڑالہذا 2 نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے۔

آج تک کسی گروپ کا حصہ بنا اور نا ہی آئندہ اس کا امکان ہے اور نہ ہی کبھی پارٹی کو مایوس کروں گا۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں کسی تحریک کا حصہ نہیں اور نا ہی کسی کا آرڈر لے کر آیا ہوں ،ْمیں کسی سے آرڈر نہیں لیتا بلکہ سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہوں۔ عمران اور نوازشریف میرے سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہی ۔

یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے بانی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں بھی پارٹی کا بانی رکن ہوں اور میرے علاوہ کوئی بھی شخص بانی رکن نہیں، پارٹی کے تمام ارکان قابل احترام اور معزز ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر شمولیت اختیار کی لیکن میں تسلسل کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ جڑا رہا۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے آج تک کبھی پارٹی سے کہنے کے باوجود کسی عہدے کا تقاضا نہیں کیا، میں واحد شخص تھا کہ جب پاناما لیکس شروع ہوا تو میں نے نواز شریف کو سپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ نواز شریف کو نقصان ہوسکتا ہے، اس کے بعد نواز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے کا بھی مشودہ دیا، جے آئی ٹی بنی تو میں نے کہا کہ آرمی چیف کو بلائیں اور کہیں کہ فوج کے بریگیڈئرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ جے آئی ٹی نے فیصلہ ہمارے حق میں کیا تو اپوزیشن اس فیصلے کو متنازع بنا دیگی اور اگر ہمارے خلاف کیا تو ہم شور مچائیں گے نواز شریف نے 2 بار وعدہ کیا لیکن وہ میٹنگ نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جو مشورہ دیا وہ نوازشریف کیلئے دیا ،ْ یہ بھی کہا اپنا جو دفاع لے کر جائیں اس پر سیاسی ٹیم کیساتھ مشورہ ضرور کریں لیکن وہ بھی نہیں ہوا، جب عدالت سے جب فیصلہ آگیا تو میں وزیراعظم ہاؤس گیا، نوازشریف سے کہا کہ جو کچھ ہوا اپنی جگہ اب پوری کوشش ہونی چاہیے آپ کے اور پارٹی کے حوالے سے وہ اقدامات کریں جس سے پارٹی کو استحکام ملے، پنجاب ہاؤس میں نوازشریف نے بتایا وہ عدالت جارہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ نوازشریف سے کہا عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹون نیچے لے کر آئیں، انہیں کہا کہ آپ کہیں مجھ سے نا انصافی ہوئی ،ْملک کو سیدھے راستے پر لے کر جاتا ہوں مجھے روک دیا جاتا ہے ،ْیہ نہ کہیں پانچ پی سی او ججز نے یہ کیا اور یہ بھی نہ کہیں کوئی ڈوریاں ہلا رہا ہے ،ْ ان چیزوں سے پیغام جائے گا۔انہوں نے کہاکہ میرا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں، میں نے کوئی فوج سے تمغہ نہیں لینا، ہم خود سپریم کورٹ گئے، کس نے کہا تھا جے آئی ٹی قبول کریں اور اس کے سامنے پیش ہوں، کمیشن بنانے کیلئے خط بھی لکھا، پھر جو فیصلہ آتا ہے وہ بھلے کچھ بھی ہو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہاکہ بار بار کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس وہی عدالت واپس لے سکتی ہے، ہمیں اتنی دور نہیں جانا چاہیے کہ اپنے دروازے بند کردیں۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں غلط ہوسکتا ہوں ،ْاسے بدنیتی یا میرا ذاتی مفاد قرار نہیں دیا جاسکتا، کہتے ہیں میں ناراض ہوں، ساری زندگی یہ گیم نہیں کھیلی اور کبھی سازش نہیں کی، ایک ایک اینٹ نواز شریف اور اس جماعت کیلئے رکھی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بے شمار ممبر اور منسٹر آئے اب بھی آتے ہیں، سب کو کہتا ہوں پارٹی میں رہنا ہے، ہر قانون سازی میں پارٹی کے ساتھ ووٹ کیا، کنونشن سینٹر میں بھی ووٹ کیا، اسمبلی میں ضمیر کے خلاف ان کیحق میں ووٹ دیا، ناراض ہوتا تو کیا ووٹ دیتا، سینٹ کے الیکشن میں جو امیدوار سامنے آئے اس پر شدید تحفظات تھے، مگر وہاں بھی ووٹ دیا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کہا جاتا ہے ووٹ کا تقدس اور اصل وفادار ساتھی، چار ایسے لوگ ہیں جو مشرف کے ساتھ تھے اور ہم نے انہیں ٹکٹ دیا، مشرف کے آدمی اور (ق) لیگ کے لوگوں کو دن کے اجالے میں سینیٹ کا ووٹ دیا، چار افراد ایسے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور دو ایسے ہیں جن کا ملکی سیاست سے ہی کوئی تعلق نہیں۔انہوںنے کہاکہ جب بھی پارٹی کو ضرورت ہوئی کھڑا رہا، مؤقف میں اختلاف تھا، وزارت چھوڑ دی، کون سی جگہ پارٹی سے بیوفائی کی ہے، لوگ سب وزارتوں کیلئے کام کرتے ہیں میں نے وزارت چھوڑی ہے تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو اور یہ آرام سے جو کرتے ہیں کرتے رہیں، ہم تو ساتھ کھڑے ہیں لیکن جن پر مشکل وقت ہوتا ہے ان پر بھی ذمہ داری ہے سب کو ساتھ لے کر چلیں۔

انہوں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں۔ پاکستانی میڈیا آزاد ہے جس کے جو جی میں آتا ہے چلا دیتا ہے۔ اسلام آباد میں از خود یہ بریفنگ بلائی ہے، کسی سوال پر بات نہ کروں تو سمجھیں جواب نہیں دینا چاہتا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ایک صوبائی اور دو قومی اسمبلی حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کیس کا فیصلہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے حق میں آیا تھا ۔

چودھری نثار علی نے کہا کہ بڑی بات ہے کہ ایک پارٹی کے لیڈر نے مجھے شمولیت کی دعوت دی ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اور ان کی بیٹی طعنہ زنی میں مصروف رہے اور یہ اشعار کی شکل میں جاری رہی جب جواب آیا تو خاموش ہوگئی ۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ جو شخص ساری عمر آپ کے ساتھ رہا اس وقت ناپسندیدہ اس لئے ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھتا ہے ۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ایک تنخواہ دار مقرر کیا گیا جس نے کبھی الیکشن نہیں لڑا وہ شخص ان کی گاڑی میں ساتھ اور جاتی امراء بھی جاتے ہیں وہ شخص کہتا ہے کہ چودھری نثار پارٹی کیوں نہیں چھوڑتے، پی ٹی آئی میں کیوں نہیں چلے جاتی ۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پیغامات اور لیکس کے ذریعے مجھ پر حملے کئے جارہے ہیں ، یہ حملے ہضم کرنا میرے لئے مشکل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرف سے اس وقت سے تعلقات تھے جب وہ کرنل تھے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ پارٹی کو کہاں لیکر جانا ہے قیادت کی ذمہ داری ہے، تین دفعہ وزیراعظم بننا نواز شریف کی عزت میں اضافہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست پہلوانی یا دنگل نہیں ہوتی، راستہ نکالنا ہوتا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ دو تین دن سے خلائی مخلوق کے آنیوالے بیانات پر افسوس ہے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کے خلائی مخلوق والے بیان پر افسوس ہوا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے بطور وزیراعظم کردار پر مایوسی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ بلائیں اور مسئلہ حل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ پہلے نہیں تھے اب نظریاتی ہوگئے ہیں ان کے بیان پر افسوس ہے ہم نے تو پوری زندگی نظریاتی سیاست کی ۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب وضاحت کریں کہ محمود اچکزئی کا نظریہ تو نہیں ہے ۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ سمجھتا ہوں میں اور میری پارٹی دائیں بازو کی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سن کر پشیمانی ہوئی کہ میاں صاحب نظریاتی نہیں تھے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ میں جماعت میں ہوں میں نے الیکشن لڑنا ہے ، امید کرتا ہوں کہ میں پارٹی کے اندر فعال کردار ادا کرونگا۔

انہوں نے شہباز شریف سے ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ میں جب بھی لاہور جاتا ہوں شہباز شریف سے ملتا ہوں ، شہباز شریف سے میری بہت کثرت سے ملاقات ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ میرے شہباز شریف سے ذاتی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی ذمہ داری، ملک اور عوام کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کس کی کیا ذمہ داری اور کرتوت تھے سامنے آ جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل ترین حالات سے دو چار ہے،خوفناک صورتحال رونما ہو رہی ہے، حالات سدھارنے کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ فوج کچھ نہیں کرتی ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے ہوتے ہیں، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں براہ راست اور بالواسطہ کردار رہاہے۔