کپاس کی نئی فصل پانی کی کمی کے سبب متاثر ہونے کا خدشہ، پیداوار میں 8 فیصد اضافہ

ٹیکسٹائل سیکٹر کو بجٹ میں رعایت نہ دینے پر اربوں روپے کے ریفنڈ میں تاخیر سے برآمد کنندگان کی تشویش

ہفتہ مئی 18:23

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران مجموعی طورپر روئی کے بھاؤ میں استحکام رہا۔ سیزن مکمل ہوچکی ہے جنرز کے پاس صرف پونے تین لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک موجود ہے۔ جس میں اچھی کوالٹی کی روئی بہت کم دستیاب ہے۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6200 تا 7800 روپے چل رہا ہے۔ سیزن ختم ہونے کو ہے جس کے باعث کاروباری حجم بھی کم ہوگیا ہے۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کپاس کے سارے اسٹاک ہولڈرز کی نظر کپاس کی نئی فصل پر لگی ہوئی ہیں کیوں کہ پانی کی شدید کمی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے آئندہ فصل کی آمد روایت سے کچھ دیر بعد آنے کا اندیشہ بتایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین کا اندازہ ہے کہ فصل کی آمد میں تین تا چار ہفتوں کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ بارش کی دعا کی جارہی ہے۔ دریں اثنا پاکستان کاٹن جننگ ایسوسی ایشن نے یکم مئی کو فصل کی پیداوار کے حتمی اعداد وشمار جاری کر دئے ہیں جس کے مطابق اس سال ملک میں کپاس کی کل پیداوار ایک کروڑ 15 لاکھ 80 ہزار گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ سال کی پیداوار سے 8 فیصد زیادہ ہے۔

بین الاقوامی کپاس منڈیوں میں مجموعی طورپر تیزی رہی چین نے امریکا سے کپاس کی درآمد پر درآمدی ڈیوٹی عائد کردی اب چین بھارت سے روئی کی درآمد کر رہا ہے اس وجہ سے بھارت میں روئی کے بھا میں اضافہ کا رجحان دیکھا گیا۔ تاہم نیویارک کاٹن کے جولائی وعدے میں تقریبا 55 لاکھ گانٹھیں UNFIX ہونے کی وجہ سے جولائی وعدے کا بھا بڑھ کر فی پاونڈ 87 سینٹ کی سیزن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ علاوہ ازیں آئندہ سال کے بجٹ میں ٹیکسٹائل کی برآمداد بڑھانے کیلئے مثبت اقدام نہیں لئے جانے اور پھر برآمد کنندگان کے اربوں روپے کے ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب برآمدات متاثر ہونے کے سبب ٹیکسٹائل و دیگر شعبہ کے برآمد کنندگان سراپا احتجاج ہیں۔