نیو کراچی سرکاری اسکول کا ہیڈ ماسٹر طلبا سے پیسے بٹورنے میں مصروف

لوٹ مار سے پریشان والدین اپنے بچوں کو اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو گئے

ہفتہ مئی 18:33

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) نیو کراچی 5F وائس سیکنڈری اسکول کے انچارج مختلف حیلوں سے طلبا سے پیسے بٹورنے میں مصروف عوام پریشان اپنے بچوں کو اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو گئے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق نیو کراچی میں واقع گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول (سفید اسکول) کے ہیڈ ماسٹر نے حکومت سندھ کے تعلیم کو عام کرنے کے دعووں پر پانی پھیرتے ہوئے مختلف مد میں طلبہ سے پیسے بٹورینے شروع کر دیئے ہیں، میٹرک کی مارک شیٹ اور ایڈمٹ کارڈ کے اجراء کیلئے پچاس پچاس روپے لینے کے علاوہ، داخلہ فیس کی مد میں 100 سے 500 روپے طلبہ سے وصول کرنے لگا ہے، جبکہ آخری ٹائم پر داخلوں کیلئے آنے والے میٹرک کے بچوں سے 3 سے 4 ہزار روپے وصول کرنے کی بھی اطلاعات ہیں، مقامی رہائیشیوں اور والدین کے مطابق ہیڈ ماسٹر کا طلبہ سے پیسے وصولنا کسی صورت درست اقدام نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی جواز ہے، حکومت نے خود میٹرک کے طلبہ و طالبات کی فیسیں دینے کا اعلان کیا اس کے باوجود پیسے بٹورنا کہاں کا انصاف ہے، اگر حکومت نے اس طرح کے افراد کو عوام پر مسلط کر کے پیسے بٹورنے تھے تو فیسوں کی خود ادائیگی کا اعلان کی ضرورت ہی نہیں تھی، طلبہ کے والدین کا مزید کہنا تھا طلبہ سے پیسے بٹورنے والے اسکول کے ہیڈ ماسٹر تعلیم دشمن ہیں جو 1996 سے 2011 تک پی ٹی سی ایل اور محکمہ تعلیم کے بیک وقت ملازم رہے ہیں، اعلیٰ حکام فی الفور اس تعلیم دشمن ہیڈ ماسٹر کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں، بصورت دیگر عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :